پنجاب پولیس کا ’’بچہ پکڑ ‘‘ ڈی آئی جی ،،انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ پڑھ کر اہم شخصیات،، مسکرادیں،،،عمران خان کے بچے بیرون ملک مقیم ہونے پر پریشانیاں

لاہور(رپورٹ :اسد مرزا) پولیس کے اعلی افسران پر کشش سیٹیں حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرگزرتے ہیں لیکن ایک ڈی آئی جی نے تو حد کر دی اس کے کارناموں کے ساتھ اہم عہدے حاصل کرنے کے لئے ملک کی اہم شخصیات کے بچوں کو قابو کر کے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے بچوں کے بیرون ملک رہائش کے باعث وہ افسر اب کامیاب نہیں ہو سکا ۔ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے وزیر اعظم سمیت پنجاب کی اہم شخصیات کو بھجوا ئی گئی رپورٹ پر عنوان کی جگہ ’’بچہ پکڑ ‘‘ ڈی آئی جی لکھ دیا جس پر اہم حکومت شخصیات رپورٹ کا ٹائٹل دیکھ کر پہلے مسکرائے پھر رپورٹ کا ملاخطہ کیا جن میں کرپشن کی داستانوں سے پر دہ اٹھا یاگیا تھا۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ پنجاب پولیس کے بہت سے افسران ’’گفٹ ‘‘دیکر یا اہم شخصیات کی سفارشیں کرواکے پوسٹنگ حاصل کرتے ہیں لیکن پنجاب کے ایک ڈی آئی جی کے بارے حساس ایجنسی نے ایسا انکشاف کیا کہ اعلی شخصیات حیران رہ گئیں ۔رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ملک کی اہم شخصیات کے بچوں کو کسی نہ کسی طریقے سے قابو کر کے انکی دعوتیں کرکے اپنے چنگل میں پھنسا لیتا ہے جس کے بعد وہ بچے اپنے دوست ڈی آئی جی کی سفارش کرا کے انہیں اسکی مرضی کا عہدہ دلواتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی پرویز الہی دور میں انکے صاحبزادے مونس الہی کا دوست بنا رہا انکی حکومت جاتے ہی انکا فون سننا بند کر دیا ۔جس کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار سے بھی دوستی کر کے باقابل یقین فوائد حاصل کئے جس کے بعد سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے بیٹوں کی بجائے انکے داماد علی عمران کو اپنی دوستی کے زریعے قابو کر حمزہ شہباز تک رسائی حاصل کی اور اہم سیٹوں پر تعینات رہا تاہم کسی معاملے میں میاں شہباز شریف نے اپنے داماد کی بات ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد علی عمران کا فون بھی بلاک کر دیا گیا ۔