نیا سال؛جرائم پیشہ افراد کے لئےبری خبر! لاہور میں کامیابی کے بعدپنجاب کے 7بڑے شہروں میں نئے پراجیکٹ پر کام شروع،،،آئی جی امجد جاوید سلیمی

لاہور(رپورٹ:سید انوارالحق شاہ) لاہور کی طرح صوبہ بھر کے دیگر شہروں میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ لگائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو ایک محفوظ اورمنظم سکیورٹی اور ٹریفک کا سسٹم مہیا کیا جاسکے۔ اس سٹم سے نا صرف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گابلکہ ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی۔ پراجیکٹ پرلاہور کے بعد قصور، ملتان، راولپنڈی، سرگودھا، بہاولپور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں تیزی سے کام جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہارانسپکٹر جنرل پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی نے آج قربان لائن میں سیف سٹیز اتھارٹی کی سالانہ کارکردگی2018 کے جائزہ کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی جلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مینیجنگ ڈائریکٹر ملک علی عامر ، چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان، چیف ایڈمنسٹریشن آفیسرمحمد کامران خان، چیف فنانشل آفیسرنثار احمد چیمہ ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز افضال کوثربھی موجود تھے۔ مینیجنگ ڈائریکٹر ملک علی عامر اور چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان نے آئی جی پنجاب کو بریفنگ میں بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی اور مشکوک حرکات پر1 لاکھ سے زائد واقعات انسدادی کارروائی کے طور پر رپورٹ کیے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک سال میں 24,523مشکوک گاڑیوں اور2,160مشتبہ افراد کو PRUاور ڈولفن سکواڈکے ذریعے چیک کروایا گیا۔9,460گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کے خلاف نمبر پلیٹ نہ ہونے پر ایکشن لیا گیا۔ پولیس تفتیشی افسران کو تفتیش میں مدد کیلئے 1,745 جرائم کے واقعات کی برقیاتی شہادتیں مہیا کی گئیں۔ سینٹر سے لاہور پولیس کو 4,487جرائم کے واقعات کی ویڈیو شہادتیں دکھائی گئیں۔ اتھارٹی نے 2018میں 15ایمرجنسی ہیلپ لائن پر 4,012,900کالز موصول کیں۔ کل موصول شدہ کالز میں سے 75فیصد کالزغیر ضروری تھیں۔ ڈسپیچ کنٹرول سینٹر سے 490,594 حادثات و واقعات میں شہریوں کو امداد فراہم کی۔ ریسکیوسے متعلقہ 15,071کیسز بنائے گئے جبکہ1,473کیسزآگ لگنے کے واقعات سے متعلقہ تھے۔ اتھارٹی کے مرکزِ تلاش گمشدہ نے67گمشدہ افراداور بچوں کوتلاش کرکے اپنوں سے ملوایا۔ ایک سال میں 1,293موٹر سائیکلز ، 24گاڑیاں اور37رکشے برآمد کرکے مالکان کے حوالے کی گئیں۔ جنوری سے دسمبر2018تک سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 211ریلیاں اور احتجاج مانیٹر کیے گئے۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن پر2017 کی 3.5ملین کالز کے مقابلے میں 2018میں 4ملین سے زائد کالز موصول ہوئیں۔ اتھارٹی نے شہر بھرمیں وی ایم ایس سکرینزا ورآفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عوام کو آگاہی فراہم کی گئی۔ آئی جی پنجاب نے اتھارٹی کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا اور بعد ازاں اتھارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔