اینٹی کارلفٹنگ کا بڑا سکینڈل بے نقاب ،،کار چوروں سے ساتھی اہلکار سے کس افسرکے رابطے ہیں ،،،،تفتیش سی آئی اے سٹی جانے سے بہت سے چہرے بے نقاب ہونے کا امکان

لاہور(رپورٹ؛ ملک ظہیر)اینٹی کارلفٹنگ سٹاف کے اہلکارکے کار چوروں کے گروہ سے گٹھ جوڑ کے حوالے سے تفتیش میں مذید سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ کانسٹیبل شہزاد قمر کے کارناموں سے افسران بھی آگاہ تھے لیکن ایس پی کے ریڈر ٹی اے ایس آئی فیصل کی شہزاد قمر سے قربت کے باعث اس مافیا کے خلاف اور کارروائی نہیں ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی اینٹی کارلفٹنگ علامہ اقبال ٹاؤن اور صدر نے خفیہ معلومات پر کار رسیورز کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کیا تو اس کے کانسٹیبل شہزاد قمر کا رسیورز سے بار بار رابطوں کا ریکارڈ ملا جب اس حوالے سے اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ مناسب جواب نہ دے سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل شہزاد قمر کے حوالے سے ایس پی اینٹی کارلفٹنگ عاطف حیات کو سپیشل رپورٹس بھجوائی گئیں لیکن کانسٹیبل کے خلاف کارروائی کی بجائے مجرمانہ خاموشی کے پیچھے بھی ایک راز ہے ۔ ڈی ایس پی نے ان حالات پر جب شہزاد قمر کی گیٹ پر ڈیوٹی لگائی تو اس نے ایس پی کے ریڈر فیصل سے ساز باز ہو کر اپنا تبادلہ اینٹی کارلفٹنگ سٹاف کینٹ کروالیا ۔ایک اہلکار کا کہنا ہے کا ہے کہ حکام اینٹی کارلفٹنگ سٹاف کو بدنامی سے بچانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں لیکن حساس ادارے کا افسر رکاوٹ بنا ہوا ہے۔