موجودہ حکومت نے اب تک 22 کھرب 40 ارب روپے کا قرض لے لیا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مجموعی طور پر 22 کھرب 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق کم ریونیو کلیکشن کے دباؤ کے تحت حکومت اپنے بڑھتے ہوئے ملکی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض لے رہی ہے جبکہ بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے حکومت کو بیرونی خلا پورا کرنے کے لیے ڈالر حاصل کرنے پر مجبور کردیا۔
مالی سال 2019 کے 5 ماہ کے دوران حکومت کا کل خسارہ 22 کھرب 40 ارب روپے یا 9.25 فیصد اضافے کے ساتھ 264 کھرب 52 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اسی عرصے کے دوران حکومت کا ملکی خسارہ 907 ارب روپے سے بڑھ کر 173 کھرب 23 ارب روپے ہوگیا جبکہ غیر ملکی خسارے میں بھی بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا اور بیرونی قرضہ 13 کھرب 34 ارب روپے سے بڑھ کر 91 کھرب 3 ارب روپے ہوگیا۔
بیرونی قرضے میں بے تحاشہ اضافے کی ایک اور وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 15 فیصد تک کی کمی بھی ہے کیونکہ جون کے اختتام پر ایک ڈالر 121 روپے 54 پیسے کا تھا جو نومبر کے اختتام تک 140 روپے 26 پیسے سے زائد کا ہوگیا۔
حکومت کی جانب سے اپنے اندرونی قرض کو بنیادی طور پر خزانے کے بل پر انحصار کرکے مختصر مدت کے قرض کو بڑھایا گیا اور مالی سال 2019 کے پہلے 5 ماہ میں مختصر مدت کا قرض 11 کھرب 68 ارب روپے سے بڑھ کر 100 کھرب 57 ارب روپے ہوگیا۔
رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے روپے کے قرض کے لیے مرکزی بینک پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا۔
تاہم وفاقی حکومت کے بانڈز کی قدر نمایاں حد تک کم ہوئی اور 3 سو 33 ارب روپے کم ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں بانڈز کی رقم سے حاصل کی جانے والی آمدنی کم ہو کر 34 کھرب 67 ارب روپے ہو گئی جبکہ اسی عرصے کے دوران حکومت کو نیشنل سیونگ اسکیم کی مدد سے بھی زیادہ آمدنی حاصل نہیں ہوئی۔
اسی دوران حکومت کی جانب سے کرنٹ اکاؤنٹ کے بیرونی فرق کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اب تک ملک کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں جبکہ چین اور متحدہ عرب امارات سے مزید ڈالرز ملنے کا امکان ہے۔