یہ کون ہیں جو چاند پر ایک دوسرے کی تصاویر اتار رہے ہیں؟

ایک چینی روور اور لینڈر نے چاند کی سطح پر ایک دوسرے کی تصاویر اتاری ہیں۔ چین کے خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ 3 جنوری کو چاند کے اوجھل حصے پر اترنے کے بعد دونوں خلائی گاڑیاں اچھی حالت میں ہیں۔
اس کے ساتھ ہی لینڈِنگ کے مقام کے وسیع مناظر کی تصاویر اور دونوں گاڑیوں کی لینڈنگ کی ویڈیوز بھی جاری گئی ہیں۔
روور اور لینڈر اس طرح کے آلات سے لیس ہیں جو چاند کے اس اب تک ان دیکھے علاقے کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔
روور ابھی ابھی ’سٹینڈ بائی‘ حالت سے جاگا ہے۔
گاڑی کو لینڈنگ کے مقام پر، جہاں سورج اپنے بلند ترین مقام پر پہنچا، شدید درجہ حرارت سے بچانے کے لیے کنٹرولرز نے لینڈنگ کے فوراً بعد اسے اس پوزیشن میں ڈال دیا تھا۔
درجہ حرارت 200ڈگری سینٹیگریڈ تک پہنچنے کا خدشہ تھا۔ تاہم چائنیز لونر ایکسپلوریشن پروگرام (CLEP) کے مطابق 11 جنوری کی صبح تک یوتو 2 روور، اس کا لینڈر اور ریلے سیارہ سب ٹھیک ہیں۔
چینگ ای-4 نامی یہ مشن چاند کے اوجھل حصے پر لینڈنگ کی پہلی ایسی کوشش ہے۔
چائنیز لونر ایکسپلوریشن پروگرام نے یہ تصاویر جاری کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ’محققین لینڈنگ کیمرے سے لی گئی تصاویر کے ذریعے لینڈنگ کے مقام کے آس پاس چاند کی سطح اور بناوٹ کا تجزیہ مکمل کر چکے ہیں۔‘
پہلے لی جانے والی تصاویر کے برعکس ان نئی تصاویر میں چینی محققین نے رنگوں کو صحیح کیا ہے تاکہ تصاویر اصلیت کی بہتر عکاسی کر سکیں، اور وہ ہمیں ویسی نظر آئیں جیسے کہ ہم وہیں کھڑے ہوں۔‘
مبصرین نے اس طرف توجہ دلائی کہ ان تصاویر میں چاند کی سطح کافی حد تک لال نظر آتی ہے جو کہ پہلے کی سرمئی تصاویر سے بالکل الگ ہے۔
‘دی کنورسیشن’ کے لیے لکھے گئے ایک آرٹیکل میں ملٹن کینز کی اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیو راتھری نے لکھا کہ ‘تصویر کی اصل شکل میں چاند کی سطح سرخ نظر آتی ہے کیونکہ ڈیٹیکٹر سبز اور نیلے رنگ کے مقابلے میں سرخ کے بارے میں زیادہ حساس تھے۔’
چینگ ای 4 چین سے سات دسمبر کو لانچ کیا گیا تھا اور یہ چاند کی سطح پر تین جبوری کو بیجنگ کے وقت کے مطابق دس بج کر چھبیس منٹ پر اتری۔ یہ چاند کے اوجھل حصے کو دریافت کرنے کے لیے بھیجا جانے والا پہلا مشن تھا۔
سپیس نیوز کے مطابق چاند گاڑی کو بارہ جنوری کو جب چاند پر رات ہو گی غیر فعال کر دیا جائے گا اور اس وقت وہاں درجہ حرارت منفی ایک سو اسّی ڈگری تک گر سکتا ہے۔
چین کی یونیورسٹی آف جیو سائنس کے ڈاکٹر لانگ ژاؤ نے ستمبر میں ایک میگزین میں لکھا تھا کہ چاند کا یہ حصہ جہاں چین کی خلائی گاڑی اتری ہے زمین سے اوجھل ہے اور اس سے براہ راست ریڈیو لنک ممکن نہیں۔ اس کا رابطہ زمین سے ایک سیٹلائیٹ کے ذریعے ہو گا جسے چین نے گزشتہ سال مئی میں لانچ کیا تھا۔
یہ سیٹلائیٹ چاند سے 65000 کلومیٹر کے فاصلے پر ایسے مقام پر ہے جہاں وہ چین، ارجنٹینا اور دیگر ممالک سے دیکھی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ایک غیرمعمولی صورتحال کی وجہ سے جسے ‘ٹائیڈل لاکنگ’ کہا جاتا ہے ہم زمین سے چاند کا صرف ایک رخ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ چاند اپنے محور پر گھومنے کے لیے اتنا ہی وقت لیتا ہے جتنی دیر میں وہ زمین کے مدار کے گرد چکر لگاتا ہے۔
چاند کی اس سطح کو عام طور پر ‘تاریک پہلو’ کہا جاتا ہے تاہم یہاں ‘تاریک’ کا مطلب ‘ان دیکھا’ ہے اور ایسا نہیں کہ یہاں روشنی نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ چاند کے دونوں جانب دن اور رات کا وقت یکساں ہوتا ہے۔