سپریم کورٹ لاہور رجسٹری: ذہنی مریض خضر حیات سے متعلق درخواست کی سماعت

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سزائے موت کے منتظر مبینہ ذہنی مریض خضر حیات کی پھانسی کے خلاف دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ فوری معلوم کریں آیا وہ شخص ذہنی مریض ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سزائے موت کے منتظر ذہنی مریض خضر حیات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ میں نے آج اخبار میں خبر پڑھی ہے کہ کسی خضر حیات نامی شخص کو پھانسی دے رہے ہیں، خضر حیات جیل میں قید ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ خضر حیات کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے، جس پر چیف جسٹس نے انہیں ہدایت کی کہ فوری طور پر معلوم کروائیں کہ وہ شخص ذہنی مریض ہے یا نہیں۔
بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے خضر حیات کے اہل خانہ کی جانب سے کی جانے والی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اس پر سماعت پیر کے لیے مقرر کردی۔
جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس سردار طارق مسعود پیر کو مذکورہ درخواست پر سماعت کریں گے۔
خیال رہے کہ خضر حیات کے اہل خانہ کی جانب سے کی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو پھانسی دی جا رہی ہے عدالت اس کا نوٹس لے۔
گزشتہ روز لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ذہنی مرض شیزوفرینیا (جس میں مریض کی شخصیت بے ربط، منتشر ہوجاتی ہے) میں مبتلا سزائے موت کے قیدی خضر حیات کو تختہ دار پر لٹکانے کی تاریخ 15 جنوری مقرر کردی تھی۔
ڈسٹرکٹ سیشن جج خالد نواز کے دفتر سے جاری ہونے والے ڈیتھ وارنٹ کے مطابق سابق پولیس کانسٹیبل خضر حیات کو سینٹرل جیل لاہور میں سزائے موت دی جائے گی۔
خضر حیات کو ساتھی پولیس اہلکار کو قتل کرنے پر اکتوبر 2001 میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2 سال بعد 2003 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔
دسمبر 2018 میں لاہور ہائی کورٹ نے خضر کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے لیے ان کی والدہ کی جانب سے دائر درخواست خارج کردی تھی۔
عدالت کی جانب سے تاریخ مقرر کیے جانے کے بعد جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے خضر حیات کی سزا پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خضر حیات کے بلیک وارنٹ دو بار جاری ہوچکے ہیں اور دونوں بار لاہور ہائی کورٹ نے ان کی پھانسی پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
جون 2015 میں خضر حیات کے بلیک وارنٹ جاری کیے گئے جسے ہائی کورٹ نے آخری لمحات میں منسوخ کردیا تھا۔
اس کے بعد جنوری 2017 میں لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے خضر کے ایک بار پھر ڈیتھ وارنٹ جاری کیے لیکن اس بار بھی ہائی کورٹ نے سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا۔