عالمی کنزیومر الیکٹرانکس نمائش میں انسان کا نچلا ’ مشینی دھڑ ‘ متعارف

عالمی کنزیومر الیکٹرانکس نمائش برائے سال 2019 کے آخری روز انسان کا نچلا مشینی دھڑ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں ٹیکنالوجی کی سالانہ نمائش کے دوران امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی سیکڑوں کمپنیوں اور اداروں نے اپنی تیار کردہ ایجادات پیش کیں۔
سی ای ایس 2019 کے دوران مختلف کمپنیوں نے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ انسان دوست روبوٹ، جدید آلات، موبائلز ، خود کار گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور مشینیں متعارف کرائیں جنہیں دیکھ کر صارفین بہت زیادہ متاثر ہوئے۔
رواں برس جہاں دیگر اشیاء لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں وہی ٹیبل ٹینس کھیلنے، رقص کرنے، صفائی کرنے اور انسان کی مدد کرنے والا روبوٹ بھی قابل ذکر رہا۔

موبائل، ٹی وی اور دیگر الیکٹرانکس اشیاء بنانے والی معروف کمپنی سام سنگ نے اس بار صارفین کو بہت زیادہ حیران کیا کیونکہ کمپنی کی جانب سے چار روبوٹس بھی متعارف کرائے گئے جن میں سے ایک ’بوٹ ایئر‘ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔
سام سنگ کا ’بوٹ ایئر‘ بظاہر کوڑے دان جیسا ہے مگر اس کا اصل کام گھر کی ہوا کو شفاف بنانا اور کمرے سے کچرا صاف کرنا ہے۔
روبوٹ کو جس کمرے میں گندگی یا ہوا میں آلودگی محسوس ہوگی یہ وہاں جاکر صفائی اور فضاء کو شفاف کرے گا، علاوہ ازیں اگر باروچی خانے میں کوئی چیز جل جائے تو یہ اُس کی بو کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سام سنگ کے ماہر نے بتایا کہ ’روبوٹ مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) سے لیس ہے اور اسے بڑی کمپنیاں استعمال کررہی ہیں‘۔

اسی طرح کمپنی کی جانب سے ’جیمز‘ نامی روبوٹ بھی متعارف کرایا گیا جو لوگوں کو چلنے میں مدد فراہم کرتا ہے، حیران کن طور پر یہ مشین انسان کے نچلے دھڑ کی طرح بنائی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق فالج، حادثے کا شکار افراد جو چلنے پھرنے سے قاصر ہوتے ہیں یہ روبوٹ اُن کی مدد کرے گا اور انہیں گھمائے گا۔
کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’روبوٹ ٹیکنالجی پر گزشتہ 6 سال ہمارے ماہرین کام کررہے تھے جس میں ہمیں بہت زیادہ کامیابی ملی، البتہ ابھی اسی صرف تحقیقی مقاصد کے لیے ہی متعارف کرایا گیا۔
سام سنگ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روبورٹ کی تیاری کمرشل بنیادوں پر شروع نہیں کی گئی اس لیے مارکیٹ میں اسے فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا۔