اگر شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو عمران خان اور پرویز خٹک کو کیوں نہیں، رانا ثنا اللہ

لیگی رہنما رانا ثنا اللہ خان نے نیب ہر جانبدارانہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو عمران خان اور پرویز خٹک کو کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
فیصل آباد میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے الزام لگایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا کردار جانبدارانہ ہے اور ادارہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے، چیئرمین نیب سے ملاقات کے دوران اپنے تحفظات سامنے رکھیں گے۔ شریف برادران قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، سرخرو ہونگے۔
لیگی رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری صبح وشام میاں برادران کیخلاف الزام لگاتے ہیں لیکن علیمہ خان کی پراپرٹی کا حساب نہیں دیا جا رہا۔ صدقہ، زکواۃ، خیرات کے پیسوں سے یورپ میں پراپرٹی خریدی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کا اعلان (ن) لیگ کی حکومت نے کیا، وزیراعظم عمران نے کہا تھا کہ جو اس سکیم سے فائدہ اٹھائے گا وہ چور اور ڈاکو ہوگا۔ علیمہ خان اسی ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں۔
وزیر ریلوے شیخ رشید کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کو اگر اختلاف ہے تو استعفیٰ دیں،عدالت جانا چاہیے، پی اے سی کا چیئرمین بنانا حکومت کا فیصلہ ہے، شیخ رشید کو اگر اعتراض ہے تو وہ سب سے پہلے استعفیٰ دیں اور عدالت میں پیش ہوں۔ کابینہ کے فیصلے کیخلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا سکتی، شیخ رشید اگر سپریم کورٹ جائیں گے تو جرمانے کیساتھ درخواست خارج ہو گی۔
رانا ثنا اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ 1985ء سے پہلے شیخ رشید کے پاس کوئی پراپرٹی نہیں تھی، کشمیر مہاجرین کے کیمپ سے وہ ارب پتی بنے۔