‘برطانوی عوام بریگزٹ پر نظرثانی کریں‘ یورپی پارلیمانی اراکین کا مشترکہ خط

یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے ’ بریگزٹ کے بعد ہونے والے تباہی ‘ سے بچاؤ کے لیے ایک مشترکہ خط میں برطانوی عوام سے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی درخواست کر دی۔
یورپی پارلیمنٹ کے آسٹرین رکن کی جانب سے پیش کیے گئے خط پر ان کے ایک سو 29 ساتھیوں نے دستخط کیے جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں حال ہی میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے براعظم میں بےچینی بڑھ رہی ہے۔
خط میں لکھا گیا کہ ’ ہم آپ کی ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، نہ مدد کرسکتے ہیں لیکن ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ ان افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو بریگزٹ کے فیصلے پر ایک مرتبہ غور کرنے کا موقع چاہتے ہیں،اب یہ واضح ہے کہ بریگزٹ 3 سال قبل یورپی یونین چھوڑنے کی مہم کے لیے کیے گئے وعدوں سے مختلف ہے‘۔
کنزرویٹو، لبرل، سوشلست اور گرین گروپس کے نمائندوں نے اس بات کا اضافہ کیا کہ وہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کے فیصلے کا احترام مگر اس پر افسوس کرتے ہیں۔
خط کے متن کے مطابق ’یورپی یونین میں رہنے سے متعلق برطانیہ کے کسی بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ہم یورپی یونین میں اصلاحات اور بہتری کے لیے آپ(برطانیہ) کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ تمام شہریوں کے مفاد میں بہتر طریقے سے کام کرے‘۔
یورپی پارلیمان سے وابستہ سائرس وہ واحد ملک تھا جس کے تمام اراکین نےاس خط پر دستخط کیے، یہ یورپی یونین کا تیسرا سب سے چھوٹا رکن ہے۔
پارلیمانی اراکین کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ 40 برس میں برطانوی سیاست دانوں اور شہریوں کی جانب سے یورپین منصوبے میں تعاون پر شکرگزار ہیں،ہم برطانوی ساتھیوں کی غیر معمولی مہارت کو یاد کریں گے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ آرٹیکل 50 کے خاتمے کی حمایت کریں گے‘۔
خط میں کہاگیا کہ ’ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس بات پر دوبارہ غور کریں کہ یونین کو چھوڑنا برطانیہ اور یورپیوں کی اگلی نسل کے مفاد میں ہے یا نہیں جو رہائش اور ایک ساتھ کام کرنے کے مواقع کھو دیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’بریگزٹ ہم سب کو کمزور کردے گا، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ساتھ رہیں، ایک ساتھ ہم بہت مضبوط ہیں اور اکٹھے رہ کر ہم یورپ کو مزید مضبوط بناسکتے ہیں‘۔
مذکورہ خط سے متعلق برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ رکن یورپی پارلیمان کیتھرین بیئرڈر کا کہنا تھا کہ ’ اتنے سارے ممالک کے اتنے سارے یورپی پارلیمان سے برطانیہ کو اہمیت دیا جانا دل کو چھولینے والی بات ہے کہ وہ چاہتے ہیں ہم ساتھ رہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمارے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ یورپی یونین میں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ہم زیادہ مضبوط ہیں‘۔
خیال رہے کہ دسمبر میں برطانوی حکومت نے یورپی یونین سے کیے گئے معاہدے پر ووٹنگ کو شکست کے خوف سے ملتوی کردیا تھا اب اس معاہدے پر ووٹنگ 14جنوری کو ہوگی۔
3 روز قبل بریگزٹ کے حوالے سے تازہ ووٹنگ میں تھریسامے کے خلاف 308 ووٹ سے ترمیم پاس کی گئی جس میں حکمراں جماعت کے درجنوں اراکین بھی شامل تھے جبکہ 297 اراکین نے وزیراعظم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے بھی لیبرپارٹی کا ساتھ دیا جس کے بعد 29 مارچ کو یورپی یونین سے مکمل علیحدگی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔