پانی نایاب ہونا شروع ہو گیا ہے،سونے کی قیمت پر بھی نہیں ملے گا: چیف جسٹس ثاقب نثار

زیرزمین پانی کی قیمت اور استعمال کیس میں چیف جسٹس حکام پر برس پڑے اور کہا حکومت کی پانی کے معاہدہ پر کام کرنے کی نیت ہے نہ قابلیت ، پانی استعمال کیا جارہا ہے لیکن تاحال قیمت مقرر نہیں ہوئی، پانی نایاب ہونا شروع ہو گیا ہے،سونے کی قیمت پر بھی نہیں ملے گا، منرل واٹر کمپنیاں پانی استعمال…
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا زیر زمین پانی کی قیمت پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پانی نایاب ہونا شروع ہو گیا ہے، سونے کی قیمت پر بھی نہیں ملے گا، منرل واٹر اورمشروبات پر زیر زمین پانی کی قیمت کا تعین کر دیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ صنعتوں کے لیے پانی کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دیا جبکہ ضائع پانی کی ٹریٹمنٹ کا بھی حکم دیا ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا لا کمیشن نے محنت سے پلان بنا کر دیا، حکومت کی جانب سے تا حال کوئی عملدرآمد نظر نہیں آیا، لا کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہورہا، معاملہ وزیراعلیٰ یا چیف سیکرٹری کے پاس چلا جاتا ہے، پھر معاملے پر ذیلی کمیٹی بن جاتی ہے، اسی طرح یہ سارا کام کاغذوں کی نظر ہو جائے گا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا لوگوں کو پیاسا مار دینا ہے؟ کچھ کہہ دو تو کہا جاتا کہ سوال اٹھا دیے ، حکومت کی پانی کے معاہدہ پر کام کرنے کی نیت ہےنہ قابلیت ، گوادر میں پانی نہیں مل رہا ، مصروفیات کے باعث گوادر نہیں جاسکا۔
سرکاری وکیل نے دلائل میں کہا بلوچستان میں ٹیوب ویل خشک ہو چکے ہیں ، تسلیم کرتا ہوں گوادر میں پانی نہیں مل رہا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ وزیر اعظم اور کابینہ کو سمری بھجوا دی ہے، جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا پانی استعمال کر رہے ہیں لیکن تاحال قیمت مقرر نہیں ہوئی، منرل واٹر کمپنیاں پانی استعمال کر رہی ہیں، بتایا جائے صوبوں اور وفاق نے کیا طریقہ کاربنایا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا صنعتوں کے لیے پانی کے استعمال کی قیمت کا تعین ہونا چاہیے، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ صنعتیں استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائیں، ہائی کورٹ جج نے تجویز دی کہ مساجد میں استعمال پانی کا مزید استعمال کیا جائے۔
سیکریٹری نے عدالت ک بتایا لا اینڈ جسٹس کمیشن نے قیمت اور استعمال پر رپورٹ جمع کرائی ہے، رپورٹ میں چند تجاویز پیش کی گئیں ہیں۔