پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر میں مبینہ خورد برد کا انقشاف

پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن نے لاہور کے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر میں مبینہ خورد برد کی تصدیق کر دی۔
سپریم کورٹ میں جمع عبوری رپورٹ میں ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کر دی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) منصوبے کی خلاف قانون منظوری دی۔ دس ارب سے زائد لاگت کے منصوبوں پر ایکنک کی منظوری درکار ہوتی ہے جو نہیں لی گئی۔
ایک ہزار پچاس بستروں کا ہسپتال بننا تھا جسے بعد میں چار سو اڑتالیس بستر کر دیا گیا۔ دسمبر 2017ء میں مکمل ہونے والا منصوبہ بائیس ارب روپے لگنے کے باوجود زیر تکمیل ہے۔ تاخیر سے حکومت کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ آئیڈیپ انتظامیہ نے تاخیر کا نوٹس لیا نہ ہی ٹھیکیدار کو جرمانہ کیا۔
عبوری رپورٹ کے مطابق منصوبے کی منظوری میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔ پی کے ایل آئی انتظامیہ نے جعلی لیب رپورٹس جاری کیں۔ اندرونی خریداری میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہوئی۔
ہسپتال میں غیر ملکی نرسیں بھرتی کی گئیں۔ بھرتی میڈیکل سٹاف بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہے۔ آئی ٹی آلات کی خریداری میں بھی گھپلے کئے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات ثابت ہے کہ پی کے ایل آئی منصوبے میں عوام کے پیسے کھائے گئے مگر نقصان کا اصل تخمینہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔