برازیل ڈیم ٹوٹنے سے کم از کم تین سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ

برازیل میں خام لوہے کی ایک کان پر ایک ڈیم ٹوٹنے سے سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم نو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تین سو افراد لاپتہ ہیں۔ ریاست کے گورنر نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے کی بہت کم امید…
برازیل کی جنوب مشرقی ریاست میناس جیرائس کے علاقے برومڈینو میں خام لوہے کی کان کے نزدیک ڈیم ٹوٹنے سے کیچڑ کے سیلاب نے خام لوہے کی کان کے کیفے ٹیریا کو دفن کر دیا جس میں سینکڑوں مزدور دن کا کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
امدادی کارکن کیچڑ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں اورمٹی ہٹانے والے مشینری کی مدد سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ریاست کے گورنر رومیو زیما نے کہا کہ لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے کا امکان بہت کم ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ برازیل سے بڑی کان کنی کی کمپنی ویل کی ملیکیت کا والا ڈیم کیسے ٹوٹا۔ تین سال قبل بھی ویل اور بی ایچ پی کی ملکیت والا ایک ڈیم ٹوٹ گیا تھا جس سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق پہلے ایک ڈیم ٹوٹا جس سے نیچے والے ڈیم میں طغیانی آگئی۔ ڈیم کے ٹوٹنے سے کیچڑ کا ایک سیلاب ڈیم کی عمارت اور قریبی کھیتوں میں گھس گیا جس سے عمارتیں اور گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔
امدادی کارکنوں نے کیچڑ میں پھنسے ہوئے درجنوں لوگوں کو زندہ بچا لیا ہے۔
ویل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کے ایک تہائی ملازمین کا پتہ چل سکا ہے اور اب بھی بڑی تعداد میں ملازم لاپتہ ہیں۔
فائر بریگیڈ کے مقامی عملے کا کہنا ہے کہ کم از کم تین سو افراد لاپتہ ہیں۔