گرین لینڈ: 350 برسوں میں سب سے زیادہ برف کب پگھلی؟

گذشتہ دو دہائیوں کے درمیان گرین لینڈ میں برف کی چادر میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کو جانچنے والے ناسا کے سیٹیلائٹ ’گریس‘ (دی گریویٹی ریکوری اینڈ کلائمیٹ ایکسپریمنٹ) نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2003 سے 2013 تک گرین لینڈ کی برفانی چادر میں چار گنا کمی واقع ہوئی ہے۔
پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) نامی جریدے میں شائع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے بعد 12 سے 18 ماہ تک کے لیے برف پگھلنے کا عمل رک گیا ہے۔
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مستقبل میں کس طرح گرین لینڈ کے مختلف علاقے سمندر کی سطح میں اضافہ کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
اس تحقیق کا مقصد کیا تھا؟
کافی عرصے سے گرین لینڈ کے جنوب مشرقی اور شمال مغربی حصوں پر بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح پر نظر رکھنے والے سائنسدان اس حوالے سے فکرمند ہیں کیونکہ یہاں برفانی تودوں سے برف کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر بحراوقیانوس میں گر رہے ہیں۔
تاہم سنہ 2003 سے سنہ 2013 کے درمیان سب سے زیادہ برف میں کمی گرین لینڈ کے جنوب مغربی حصہ میں واقع ہوئی ہے جو بہت حد تک برف کے بڑے گلیشیئرز سے محروم ہیں۔
امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے سربراہ مصنف مائیکل بیوس کا کہنا ہے کہ ’یہ جو کچھ بھی تھا، اس کو گلیشیئرز سے بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اب وہ وہاں زیادہ نہیں ہیں۔‘
‘یہ سطح پر موجود برف تھی اور برف ساحلی پٹی سے دور زمینی علاقوں میں پگھل رہی تھی۔’
برف پگھلنے کی وجوہات کیا تھیں؟
اس علاقے میں تیزی سے برف پگھلنے کی وجہ نارتھ اٹلانٹک اوسی لیشن (ناؤ) نامی موسمیاتی رحجان کہے جا سکتے ہیں۔
ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب یہ (منفی) مرحلے میں ہوتا ہے جس کے تحت موسمیاتی رحجان ناؤ کے سبب گرمیوں کی مدت میں اضافہ ہوجاتا ہے زمین تک پہنچنے والی سورج کی تابکاری برفباری میں کمی پیدا کر دیتی ہیں اور ایسا خصوصاً مغربی گرین لینڈ میں دیکھا گیا ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ جنوب مغربی گرین لینڈ میں برف پگھلنے کی وجہ ناؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اورموسمیاتی تبدیلی ہے۔
پروفیسر بیوس کا کہنا ہے کہ ‘یہ برفانی دولن یا ارتعاش ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن یہ اب ہی کیوں بری طرح برف کو پگھلا رہے ہیں؟ اس کی جہ یہ ہے کہ ماحول کی بنیادی سطح اب زیادہ گرم ہے۔ اور ان پر عارضی طور پر نارتھ اٹلانٹک اوسی لیشن (ناؤ) مزید اثرات ڈال رہی ہیں۔’
ان نتائج کا کیا مطلب ہے؟
تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق گرین لینڈ کا جنوب مغربی حصہ جو ابتک اس حوالے سے بڑا خطرہ تصور نہیں کیا جا رہا تھا اس کے بارے میں اب یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پروفیسر بیوس نے کہا: ‘ہم یہ معلوم تھا کہ بعض بڑے گلیشیئرز سے تیزی کے ساتھ پگھلتی ہوئی برف ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔’
‘مگر اب ہمیں ایک اور بڑے اور سنگین مسئلے کا سامنا ہے کہ بہت بڑی تعداد میں برف پگھل کر پانی کا دریا بن جائے گی اور سمندر میں مل جائے گی۔‘
گرین لینڈ کے زیادہ تر برفانی ذخائر کے گرد جی پی ایس نظام لگا دیا گیا ہے لیکن جنوب مغربی حصہ میں یہ نیٹ ورک کم ہے۔
اس کی وجہ یہ رہی کہ گریس سیٹلائٹ نے سنہ 2016 میں اس حوالے سے ڈیٹا لینا بند کر دیا تھا اور یہ اب تک غیر واضح ہے کہ کیا سنہ 2013 کے بعد برف پگھلنے کا عمل جو رک گيا تھا وہ ابھی قائم ہے۔
برطانوی یونی ورسٹی لیڈز کے ارتھ آبزرویشن کے پروفیسر اینڈریو شیفرڈ نے جو اس حالیہ تحقیق میں شامل نہیں ہیں بی بی سی کو بتایا: ’ کافی عرصے سے اس تحقیق پر کام جاری ہے کہ سنہ 2013 میں گرین لینڈ کی برف پگھلنا کیوں بند ہو گئی تھی لیکن بدقسمتی سے جب اس حوالے سے چیزیں دلچسپ ہونے لگیں تو گریس سیٹلائٹ نے سنہ 2016 میں کام کرنا بند کر دیا۔
’لہٰذا ہمیں یہ جاننے کے لیے کہ برف پگھلنے کا عمل کیونکر رکا یا اب بھی جاری ہے کوئی دوسرا طریقہ کار تلاش کرنا پڑے گا۔’
پی این اے ایس میں شائع تحقیق سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ برف پگھلنے کے عمل میں ٹھہراؤ کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے رحجان ناؤ کا منفی سے مثبت ہونا ہے۔
مستقبل اور ماضی کی سائنس کیا ہے!
گریس (دی گریویٹی ریکوری اینڈ کلائمیٹ ایکسپریمنٹ) زمین کے گرد چکر کاٹنے والے دو مصنوعی سیاروں پر مشتمل ہے جو زمین کی کشش ثقل کے طریقہ کی تفصیلات اکھٹی کرتے ہیں۔
یہ ناسا اور جرمن ایرو سپیس سینٹر کا مشترکہ مشن ہے جسے سنہ 2002 میں شروع کیا گیا تھا۔ گذشتہ برس اس کی مرمت کا کام کیا گیا تھا لیکن ابھی اسے مکمل فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
گذشتہ ماہ محقیقین کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں برف پگھلنے کا عمل گذشتہ 350 سالوں میں غیر روایتی رہا ہے۔
ایک امریکی تحقیقاتی ٹیم کو گرین لینڈ کی مغربی برفانی پٹی کا معائنہ کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ یہاں برف کی تاریخ سنہ 1650 سے بھی پرانی ہے۔
سائنسدانوں کے تجزیہ سے اس بات کا اشارہ ملا ہے کہ اٹھارویں صدی کے وسط میں صنعتی دور میں قطب شمالی پر گرمی بڑھنے کے بعد برف پگھلنے کے عمل میں معمولی اضافہ ہوا تھا۔ تاہم سنہ 2004 سے سن 2013 کی دہائی میں یہ عمل مسلسل اور شدید تھا جس کی مثال پچھلے 350 برسوں میں کسی ایک دہائی میں نہیں ملتی ہے۔