قصور :ڈاکوں نےاہلکاروں سے کلاشنکوف چھینی ایس ایچ او نے نئی کلاشنکوف منگوا کر نوکری بچائی،اصل رائفل برآمد ،،افسران کے ’’سہولت کار‘‘ نے کیا کردار ادا کیا ؟

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)قصور پولیس کی زیر حراست ڈاکوں نے چھانگا مانگا پولیس کے اعلی افسران کی جعل سازی کا پول کھول دیا ۔ بتایاگیا ہے کہ چھانگا مانگا میں ڈاکوں نے ناکہ لگا کر کار سوار پولیس اہلکاروں اور ملزم کو روک کر اسلحہ کے زور پر رقم اور سرکاری کلاشنکوک چھین کر فرار ہو گئے ۔ پولیس کے اعلی حکام نے اس معاملے پر تحقیقات کے لئے ڈی ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تو اس وقت کے ایس ایچ او چھانگا مانگا ارشا د نے اپنے سفارشی اور پولیس افسران کے ہر معاملے میں ’’سہولت کار‘‘میاں رفاقت کی وساطت سے افسران کو مطمئین کیا اور اس دوران مختلف افراد سے کلاشنکوف کے لئے خطیر رقم جمع کر کے اپنی جیب گرم کی اور لاہور سے نئی کلاشنکوف منگو ا کر مخبر کے زریعے 15پر کال چلوائی کہ کھیتوں سے رائفل ملی تب ڈرامہ کیا گیا کہ ڈاکو رائفل پھینک گئے ہیں تب ایس ایچ او چھانگا مانگا اپنے عہدے پر بحال رہا ۔ بھائی پھیر و پولیس نے خطرناک ڈاکوں کے 5رکنی گروہ کے 2ارکان بشارت اور شہزاد کو گرفتار کیا تو ان کے قبضے سے سرکاری رائفل برآمد ہوئی ملزمان نے انکشاف کیا کہ چھانگامانگا میں دوران واردات پولیس اہلکاروں سے یہ کلاشنکوف چھینی تھی جب موجودہ ایس ایچ او چھانگا مانگا میاں ادریس کو بتایا گیا تو اس نے چیک کیا تو انکے ریکارڈ کے مطابق سرکاری رائفل مل چکی ہے ۔ ایس ایچ او میاں ادریس کے مطابق اس معاملے کی اچھے طریقے سے تحقیقات ہو رہی ہے کہ اصل رائفل کون سی ہے ؟