خریدا آلو، نکلا بم

ہانگ کانگ ميں چپس تيار کرنے والی ايک فيکٹری نے فرانس سے آلو درآمد کيے، جن سے غير متوقع طور پر پہلی عالمی جنگ کا ايک دستی بم برآمد ہوا۔ پوليس نے بعدازاں اس بم کو ايک محفوظ مقام پر دھماکے سے اڑا ديا۔
ہانگ کانگ ميں چپس بنانے والی ايک فيکٹری فرانس سے آلو درآمد کرتی ہے۔ کمپنی کے ملازمين کو گزشتہ روز ايک غير متوقع صورتحال سے اس وقت سامنا کرنا پڑا، جب آلوؤں کے درميان انہيں ايک دستی بم ملا۔ پوليس اہلکاروں نے کھانے پينے کی اشياء بنانے والی ’کيلبی‘ نامی کمپنی کی فيکٹری ميں ہفتہ دو فروری کو اس دستی بم کو کسی جانی و مالی نقصان کے بغير ايک محفوظ مقام پر لے جا کر تباہ کر ديا۔ بعد ازاں پوليس سپرینٹنڈنٹ ولفريڈ وونگ ہو ہون نے اخباری نمائندوں کو بتايا کہ يہ بم غير مستحکم حالت ميں تھا کيونکہ قبل ازيں کسی وقت اسے چلايا جا چکا تھا تاہم وہ کسی نہ کسی وجہ سے پھٹ نہ سکا۔ پھر پوليس نے اسے اسی فيکٹری ميں تباہ کيا تاکہ کوئی نقصان نہ ہو۔
گرينيڈ کی چوڑائی قريب تين انچ تھی اور وزن ميں يہ تقريباً ايک کلوگرام کا تھا۔ پوليس کے مطابق دستی بم پر درج معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ يہ امکاناً فرانس سے آلوؤں کے ساتھ ہی غير دانستہ طور پر درآمد ہوا گيا ہو گا۔ خيال کيا جا رہا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دور کا یہ دستی بم تھا، جو ميدان جنگ ميں رہ گيا تھا اور قريب ايک صدی بعد کھيت ميں آلوؤں کے ساتھ ہی چن ليا گيا۔ ہانگ کانگ يونيورسٹی ميں شعبہ تاريخ سے وابستہ ڈيو مارسی کے مطابق، ’دستی بم پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ امکاناً اسے فوجی چھوڑ گئے ہوں گے يا ہو سکتا ہے کہ اسے پھينکا گيا ہو گا۔‘‘
ہانگ کانگ کی پوليس ايسے پرانے بارودی مواد سے نمٹنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران امريکی فوجی ہانگ کانگ پر قابض جاپانی افواج کے خلاف ايسا بارودی مواد استعمال ميں لايا کرتے تھے۔ پچھلے سال بموں کو ناکارہ بنانے والے محکمے کے عملے نے دوسری عالمی جنگ کے تين بڑے بموں کو ناکارہ بنايا، جو کافی مصروف وانچائی ڈسٹرکٹ ميں کھدائی کے کام کے دوران ملے تھے۔ سن 1941 ميں برطانوی و جاپانی افواج کے مابين موجودہ ہانگ کانگ جنگ ميدان بنا ہوا تھا۔ يہی وجہ ہے کہ جنوبی چين کے اس شہر ميں تفريح کے ليے ميدانی علاقوں کا رخ کرنے والے افراد کو اکثر ايسے دستی بم وغيرہ مل جاتے ہيں۔