کنگ سلمان ریسکیو سینٹر جڑے ہوئے یمنی بچوں کو سعودی عرب منتقل کرنے کے لیے کوشاں

سعودی عرب میں کنگ سلمان ریسکیو سینٹر دو جڑے ہوئے یمنی بچوں کو صنعاء سے مملکت منتقل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
صنعاء کے الثورہ ہسپتال میں بچوں کے شعبے کے سربراہ فیصل البابلی نے مطالبہ کیا تھا کہ ان جڑے ہوئے بچوں کو علاحدہ کرنے کے لیے مطلوب آپریشن کی سہولت میسر نہ ہونے کی بنا پر انہیں سعودی عرب منتقل کیا جائے۔
ادھر جڑے ہوئے بچوں کو علاحدہ کرنے سے متعلق سعودی پروگرام کی طبی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے واضح کیا کہ انسان دوست اقدام کے تحت یمنی بچوں کے آپریشن کے سلسلے میں اپیل کا فوری طور پر مثبت جواب دیا گیا۔
الربیعہ کے مطابق "یہ جڑواں بچے لڑکے ہیں۔ ان کا جسم مشترکہ ہے جب کہ اوپری اور زیریں دو دو حصے ہیں۔ دونوں بچوں کے سر علاحدہ ہیں۔ دونوں کی ریڑھ کی ہڈیاں ایک دوسرے سے قریب ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کا نچلا حصہ مشترکہ ہو سکتا ہے۔ دونوں بچوں کو مصنوعی نظام تنفس پر رکھا گیا ہے۔ اس طرح کے کیس میں دل اور پھیپھڑوں میں بڑے جسمانی نقائص بھی پائے جاتے ہیں اور دونوں دلوں میں اشتراک بھی ممکن ہوتا ہے۔
ڈاکٹر الربیعہ نے باور کرایا کہ کنگ سلمان ریسکیو سینٹر ہنگامی بنیادوں پر متعلقہ حکام سے رابطہ کاری میں مصروف ہے تا کہ جڑواں بچوں کو کو سعودی عرب منتقل کر کے مطلوبہ معائنہ اور ٹیسٹ انجام دیے جائیں۔ سعودی ڈاکٹر کے مطابق دل اور پھیپھڑوں میں بڑا نقص نہ ہونے کی صورت میں بھی اس طرح کے کیس میں بچوں کا زندہ رہ جانا اللہ کے حکم سے دشوار ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر الربیعہ نے واضح کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر صنعاء، صعدہ اور تعز سے تعلق رکھنے والے کئی جڑواں جڑے ہوئے بچے اور بچیوں کا سعودی عرب میں آپریشن کیا جا چکا ہے۔