گڑ غذا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے

ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ہاں بالخصوص دیہات میں گھر آنے والے مہمانوں کوگُڑیا شکر کا شربت بطور تواضع پیش کیا جاتا تھا ،جو میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد غذائی اور دوائی افادیت کا حامل ہوتا ہے۔
مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔شہروں کی بات تو چھوڑیے ،دیہات میں بھی لوگ گُڑ اور شکر کو بھول چکے ہیں ۔سفید چینی جسے سفید زہر کہنا زیادہ مناسب ہو گا،کے فدائی اور شیدائی ہو چکے ہیں اور گُڑیا شکر کے بجائے چینی بہت زیادہ کھارہے ہیں ۔
حال آنکہ ذرائع ابلاغ کے باعث پیدا ہونے والے شعورو آگہی کی وجہ سے دیہاتی بھی چینی کے نقصانات اور گُڑکی غذائی اور دوائی افادیت کے بارے میں خوب جانتے ہیں ،مگر دولت کی ہوس کے باعث گنّا شوگر ملوں کو فروخت اور تیار کردہ گُڑ برآمد کر دیتے ہیں ۔
صورتِ حال یہ ہے کہ آج کے زمانے میں گُڑ کھانے والوں کو قدامت پسند اور دیہاتی کا لقب دیا جاتا ہے ۔
اب تو کوئی اپنے مہمان کو گُڑیا شکر کی چائے پیش کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لاتا۔
سفید چینی کو سفید زہر کا نام دیا گیا ہے ۔انسانی جسمانی نظام کوتباہ کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے ،
کیوں کہ اسے سفید دانے دار بنانے کے لیے خطرناک قسم کے کیمیائی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں ۔اگر کیمیائی اجزاء استعمال نہ کیے جائیں تو چینی کی اتنی شفاف رنگت نہیں ہو سکتی ۔چینی زیادہ کھانے کے باعث اس کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہورہا ہے ۔
ہمارے ہاں گنّا بکثرت کاشت کیا جاتا ہے ۔آپ موسم سرما میں کسی دیہاتی علاقے میں چلے جائیں تو گنّے کے لہلہاتے ہوئے کھیت نظر آئیں گے ،مگر یہ سب تجارتی بنیادوں پر کاشت کیا جاتا ہے ،جب کہ پہلے صرف گھریلو استعمال کے لیے کاشت کیا جاتا تھا۔
اب کسان تجارتی بنیادوں پر کاشت کرکے بڑا منافع کمارہے ہیں ۔
شوگر ملوں کی کثرت کے باعث گنّے کی مانگ بڑ ھ چکی ہے ۔
اس کی قیمت بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔اگر کچھ لوگ گنّے سے گُڑ اور شکر بناتے ہیں تو وہ گھر یلو استعمال کے بجائے تجارتی بنیادوں پر افغانستان بھیج دیتے ہیں ۔اس طرح گُڑ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں ۔
اس وقت جتنے بھی شربت بازار میں دستیاب ہیں ،سب مصنوعی چینی سے تیار کردہ ہیں ۔
دیکھنے میں تو یہ بھلے لگتے ہیں ،مگر حقیقت میں میٹھا زہر ہیں اور لوگ پی رہے ہیں۔
گُڑیا شکر سے بنائی گئی چائے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ۔یہ نہ صرف لطف دیتی ہے ،بلکہ نظام ہضم کی اصلاح بھی کرتی ہے ۔پہاڑی علاقوں کے رہنے والے اب بھی گُڑ او ر شکر کی چائے بناتے اور پیتے ہیں ۔
موسمِ برسات میں گُڑ کی روٹیاں بہت لطف دیتی ہیں ۔موسمِ سرما میں دیہات میں تِلوں اور السی کو بھون کر ،پھر اس میں گُڑ ملا کر لڈو بنا کر کھائے جاتے تھے ۔اس میں گھی کی آمیزش لطف دوبالا کردیتی ۔اسی طرح چنے اور مکئی کو بھون کرگُڑملا کر دوستوں اور مہمانوں کو کھلایا جاتا تھا۔یوں نہ صرف ہر عمر کے لوگ اس سے لطف اندوز ہوتے ،بلکہ جسم کو حرارت پہنچا کر کئی امراض سے محفوظ بھی رہتے تھے ۔
مذکورہ بالااشیا کا کھانا موسم سرما میں سردی کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے ۔مگر اب طرزِ زندگی میں تبدیلی آچکی ہے۔
ان صحت بخش غذاؤں کے بجائے مہمانوں کی خاطر مدارت چینی سے بنی ہوئی چائے اور مٹھائیوں سے کی جاتی ہے اور ہر کوئی اس کے نقصانات جاننے کے باوجود کھاتا ہے ،یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں گُڑ کی جگہ رنگ برنگی مٹھائیاں تواضع کے لیے پیش کی جاتی ہیں ۔
گزر ے وقتوں میں دیسی طب کے ماہرین برسوں پرانا گُڑ نسخوں میں استعمال کرتے تھے ،کیوں کہ گُڑ جس قدر پراناہوتا ہے ،اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے ۔
سفید چینی کے باعث مٹاپے اور ذیابیطس کے امراض میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔دیہات کے لوگ گُڑ کھاتے تھے ،اس لیے ذیابیطس کے مرض سے محفوظ رہتے تھے ۔
گُڑ کئی امراض کے علاج کے لیے بھی کھایا جاتا ہے ۔پرانا گُر کھانسی اور دمے کو دور کرنے کے لیے بھی مفید ہے ۔پہلے وقتوں میں لوگ ہاضمے کے لیے کھانے کے بعد تھوڑا ساگُڑ کھاتے تھے۔پرانا گُڑ قبض ختم کرنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور کوئی اس کامتبادل نہیں ہے ۔