تفتیشی افسر کی رپورٹ نقیب اللہ قتل کیس میں غلط ثابت

نقیب اللہ قتل کیس میں چشم دید گواہ قائد آباد تھانے میں تعینات ہے جبکہ کیس کے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان نے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ جمع کرائی تھی۔
سندھ ہائی کورٹ میں گزشتہ روز نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں تفتیشی افسر ایس پی ڈاکٹر رضوان نے رپورٹ جمع کرائی کہ کیس کا چشم دید گواہ شہزادہ جہانگیر لاپتہ ہوگیا ہے جبکہ درحقیقت شہزادہ جہانگیر قائد آباد تھانے میں بطور ہیڈ محرر تعینات ہے جہاں وہ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
ہیڈ کانسٹیبل شہزادہ جہانگیر کو 6 نومبر 2018 کو قائد آباد تھانے میں بطور ہیڈ محرر تعینات کیا گیا، جبکہ اس سے قبل وہ میمن گوٹھ تھانے میں تعینات تھا، حیرت انگیز طور پر شہزادہ جہانگیر کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ شہر کے کسی تھانے میں درج بھی نہیں ہے۔
دوسری جانب سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی ڈاکٹر رضوان کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی عندیہ دے دیا، انھوں نے کہا کہ وہ چشم دید گواہ کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ پر ڈاکٹر رضوان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
اس سلسلے میں وہ سپریم کورٹ، آئی جی سندھ، وزیراعلیٰ سندھ سمیت ہر فورم پر جائیں گے اور تحقیقات کی درخواست کریں گے ، وہ اعلیٰ حکام سے اپیل کریں گے کہ ڈاکٹر رضوان کے اس دعوے کی کسی غیر جانبدار افسر سے انکوائری کرائی جائے، اتنے اہم نوعیت کے کیس کے چشم دید گواہ کو سیکیورٹی کیوں نہیں دی اور اگر دی گئی تھی تو پھر وہ غائب کیسے ہوگیا۔