اب ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر برطانوی ملکہ کے شوہر پرنس فیلپ

برطانوی ملکہ کے شوہر پرنس فیلپ اب ڈرائیونگ لائسنس کے بغیربرطانوی ملکہ کے ستانوے سالہ شوہر پرنس فیلپ کے پاس اب ان کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں رہا، جو چند ہفتے قبل پیش آنے والے ایک حادثے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
شاہی خاندان کے مطابق انہوں نے اپنا لائسنس رضاکارانہ طور پر واپس کیا۔لندن میں برطانوی شاہی خاندان کی سرکاری رہائش گاہ بکنگھم پیلس سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملکہ الزبتھ ثانی کے شوہر پرنس فیلپ نے کافی زیادہ غور و فکر کے بعد اپنا لائسنس رضاکارانہ طور پر واپس کر دیا ہے۔
لیکن نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بکنگھم پیلس کے اس بیان کے باوجود اس دعوے میں کچھ نہ کچھ شبے کی گنجائش اس لیے موجود ہے کہ شہزادہ فیلپ کا قدرے ضدی اور مخصوص حالات میں کافی ہٹ دھرم ہونا بہت مشہور ہے اور عوامی سطح پر بھی وہ ہمیشہ اپنی شخصیت کا سب سے باوقار اور شفیق پہلو ہی نہیں دکھاتے۔
پرنس فیلپ کے اسی رویے کے بارے میں برطانوی عوام میں ماضی میں کئی بار بہت بھرپور بحث بھی ہو چکی ہے۔ لیکن ایک بات سچ ہے کہ بانوے سالہ ملکہ الزبتھ ثانی کے ستانوے سالہ شوہر کے پاس اب ان کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں رہا۔ کئی تجزیہ کار یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اس پیش رفت کی وجہ کیا رہی ہو گی؟ اس سوال کا جواب ایک حادثہ بھی ہو سکتا ہے، جو سترہ جنوری کو پیش آیا تھا۔
برطانیہ میں مشرقی انگلینڈ کی کاؤنٹی نورفوک میں شاہی خاندان کی دیہی املاک میں سے ایک سینڈرِنگھم پیلس کے قریب 17 جنوری کو پرنس فیلپ کی گاڑی کافی زیادہ ٹریفک والی ایک سڑک پر مڑتے ہوئے ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ اس دوران پرنس فیلپ کی لینڈ روور گاڑی الٹ بھی گئی تھی۔
اس حادثے میں ملکہ کے شوہر کو تو کوئی چوٹیں نہیں آئی تھیں لیکن جس گاڑی سے ان کی گاڑی ٹکرائی تھی، اس کی خاتون ڈرائیور کو گھٹنے پر زخم آئے تھے اور اس خاتون ڈرائیور کے ساتھ بیٹھی ایک دوسری خاتون کی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ اسی گاڑی میں نو ماہ کا ایک بچہ بھی تھا، جو بالکل محفوظ رہا تھا۔
اس حادثے کے بعد برطانیہ میں اس موضوع پر پھر ایک نئی بحث شروع ہو گئی تھی کہ سینیئر سیٹیزن کہلانے والے بزرگ ڈرائیوروں کو کس عمر تک ڈرائیونگ کی اجازت ہونا چاہیے۔ اس بحث میں علامتی سطح پر خود پرنس فیلپ نے اس طرح حصہ لیا تھا کہ اس حادثے کے کچھ ہی دنوں بعد وہ دوبارہ اپنی گاڑی چلاتے ہوئے دیکھے گئے تھے اور اس مرتبہ انہوں نے ڈرائیوروں کے لیے لازمی سیٹ بیلٹ بھی نہیں باندھی ہوئی تھی۔
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس کے بعد یہ بھی ہوا کہ نورفوک میں پیش آنے والے حادثے پر شدید عوامی تنقید کے بعد پرنس فیلپ نے اس حادثے میں زخمی ہونے والی خاتون متاثرین کے نام ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں انہوں نے اس طرح معذرت بھی کر لی تھی، ’’میری خواہش ہے کہ یہ بات آپ کے علم میں ہو کہ مجھے بیبنگلی کراسنگ پر پیش آنے والے حادثے میں اپنے حصے کی غلطی پر کتنا گہرا افسوس ہے۔
اس حادثے میں زخمی ہونے والی دونوں برطانوی خواتین میں سے ایک ایما فیئرویدر بھی ہیں۔ انہوں نے حادثے کے کئی روز بعد یہ شکایت بھی کی تھی کہ ڈیوک آف ایڈنبرا کہلانے والے پرنس فیلپ تو کچھ کہنے سننے پر آمادہ نظر ہی نہیں آتے لیکن خود ملکہ الزبتھ نے اپنی ایک قریبی شاہی ملازمہ کے ذریعے ایما فیئرویدر کے لیے اپنی ’نیک خواہشات‘ بھیجی تھیں۔
ساتھ ہی ایما فیئرویدر نے یہ بھی کہا تھا کہ حادثے میں ملوث شخصیت تو ڈیوک آف ایڈنبرا تھے، نہ کہ خود ملکہ الزبتھ۔ اس لیے ایسا کوئی نیک خواہشات کا پیغام تو ڈیوک آف ایڈنبرا کی طرف سے آنا چاہیے تھا۔
ایما فیئرویدر نے یہ بھی کہا تھا، ’’اس حادثے کے بعد مجھے کئی لوگوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمہیں پرنس فیلپ سے تو کسی بہت شفقت والے پیغام کی کوئی توقع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔‘‘ پھر جب 17 جنوری کے حادثے کے بعد 21 جنوری کو ایما کو پرنس فیلپ کا خط ملا، تو کسی سرکاری خطاب کا ذکر کیے بغیر لیکن ذاتی دستخطوں کے ساتھ ملکہ کے شوہر نے اس خط کے آخر میں لکھا تھا، ’’آپ کا مخلص، فیلپ۔‘‘
ایما فیئرویدر کو یہ بات بہت پسند آئی کہ اس خط میں پرنس فیلپ نے اپنے شاہی خطاب کے بغیر محض اپنا نام لکھا تھا اور لہجہ ایسا اپنایا تھا کہ اس میں شاہی خاندان اور عوام کے درمیان بظاہر کوئی فرق نہیں رکھا گیا تھا۔ ایما فیئرویدر نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ وہ یہ خط ملنے پر بہت خوش ہوئیں اور ان کے دل میں پرنس فیلپ کی عزت اور بھی زیادہ ہو گئی۔
برطانوی پولیس کے مطابق یہ بات ابھی تک غیر واضح اور غیر حتمی ہے کہ اس حادثے میں بنیادی غلطی کس کی تھی؟ لیکن اب یہ حادثہ ایک کیس کے طور پر ریاستی دفتر استغاثہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ پراسیکیوٹرز کے مطابق اس کیس میں کسی بھی ممکنہ فیصلے کے وقت یہ بات بھی مدنظر رکھی جائے گی کہ غلطی کے مرتکب ڈرائیور کا قانونی تعین ہونے سے بھی پہلے پرنس فیلپ اپنے طور پر ایک خط میں دونوں زخمی خواتین سے معذرت کر چکے ہیں۔
اس حادثے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ چاہے رضاکارانہ طور پر ہی سہی، لیکن برطانوی ملکہ کے شوہر اور ڈیوک آف ایڈنبرا کے پاس اب ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے اور وہ دوبارہ اپنی پسندیدہ لینڈ روور بھی نہیں چلا سکیں گے۔