مصری صدر سیسی افریقی یونین کے سربراہ منتخب

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے روانڈا کے صدر پال کیگامے کو شکست دے کر 55 رکنی افریقی یونین کے سربراہ منتخب ہوگئے۔
خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا میں منعقدہ افریقی یونین کی 32 ویں سربراہی کانفرنس میں سیسی کو نیا چیئرمین منتخب کیا گیا۔
افریقی یونین کے سربراہی اجلاس کے آغاز میں ایتھوپیا کے آخری حکمران کا مجسمے کی رونمائی ہوئی جس کے بعد یونین کے سیکیورٹی گارڈز اور چند افریقی ممالک کے رہنماوں کے گارڈ کے درمیان تصادم بھی ہوا۔
عبدالفتح السیسی نے یونین کے چیئرمین منتخب ہونے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ وہ براعظم افریقہ کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘افریقہ میں امن اور استحکام کی بہتری کے لیے ہمیں کوششیں جاری رکھنی چاہیے، افریقی یونین کی ترجیحات میں ثالثی اور سفارت کاری سرفہرست رہے گی’۔
افریقی یونین کے نئے چیئرمین نے کہا کہ ‘انسداد دہشت گردی کے لیے ضروری ہے کہ ان عناصر کی شناخت کی جائے جو تعاون اور مالی مدد کرتے ہیں جبکہ ہم ان مشکلات سے آگاہ ہیں’۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا کہ عبدالفتح السیسی کی قیادت سے افریقی ممالک میں انسانی حقوق کے نظام کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنینشل نارتھ افریقہ کی کمپین ڈائریکٹر ناجیا بونیم کا کہنا تھا کہ ‘صدر عبدالفتح السیسی نے اپنی حکمرانی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں اور ان کی قیادت میں مصر انسانی حقوق اور آزادی کے حوالے سے تنزلی کا شکار ہوا ہے’۔
سیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کی سربراہی میں مستقبل میں خطے میں انسانی حقوق کی آزادی اور سول سوسائٹی کے ساتھ تعلقات پر بدترین اثرات پڑنے کے سنگین خطرات موجود ہیں’۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا افریقی ریاستوں میں انسانی حقوق کی نگرانی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مصر 2015 سے ہی افریقن کمیشن برائے انسانی و عوامی حقوق پر منظم سیاسی حملے ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مصر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے درجنوں مقدمات درج ہوچکے ہیں’۔
یاد رہے کہ 1995 میں سابق مصری صدر حسنی مبارک پر قاتلانہ حملے کے بعد افریقی یونین کے اجلاس میں مصری قیادت شرکت نہیں کررہی تھی۔
سیسی کے انتخاب سے روانڈا کے صدر پال کیگامے کی سربراہی کا خاتمہ ہوا جو ایک برس سے افریقی یونین کے چیئرمین تھے۔