ماضی میں ٹیکس کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پرخرچ ہوتا رہا: وزیراعظم

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سےترقی کرتا ہوا ملک تھا، مگر بدقسمتی سے پاکستان ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکا جس کا سبب ماضی کے حکمرانوں کا عوام کا پیسہ عیاشی میں اڑانا تھا۔
لوگ ماضی کی حکومتوں پراعتماد نہیں کرتے تھے اس لیے وہ ٹیکس نہیں دیتے تھے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے دبئی میں ہونے والے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پرخرچ ہوتا رہا۔
عمران خان نے کہا کہ ترقی کی بنیاد ہی بہتر طرز حکمرانی ہے، خیرات میں ہم بہت آگے اور ٹیکس دینے میں بہت پیچھے ہیں، جب لوگ اتنے اچھے ہیں تو ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتے، اس کی وجہ لوگوں کا حکمرانوں پر عدم اعتماد ہے، کرپشن سے ٹیکس کا پیسہ چوری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات مشکل ہیں مگر ضروری ہیں، جب آپ شکست مان لیتے ہیں تب ہی آپ کو شکست ملتی ہے، جب آپ اصلاحات کرتے ہیں تو لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم معاشی اصلاحات کررہے ہیں، سرمایہ کار پاکستان کا رخ کررہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن کی تشکیل میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے معاونت کی تھی، ہمیں اپنے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہوگا، میں پاکستان کو بہت اوپر لے کر جانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، سرمایہ کاروں سے کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا، سرمایہ کار اس بہترین موقع کو ضائع نہ کریں۔
بعد ازاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں بھی وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو یہی پیغام دیا کہ یہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا بہترین موقع ہے لہٰذا اس سنہری موقع کو ضائع نہ کریں۔

مادرِ وطن اور اسکے باشندوں کی پوشیدہ صلاحیتیں میرے سیاسی سفر میں ایک محرک کا کردار ادا کرتی آئی ہیں۔ ان تمام گروہوں جو پاکستان کو عروج کی جانب ابھرتا دیکھ رہے ہیں، کیلئے "ورلڈ گورنمنٹ سمٹ” سے میرا پیغام ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہی نادر موقع ہے، گاڑی چھوٹنے نہ پائے! https://t.co/5H4M5KrGUx
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 10, 2019
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان حکومتی وفد کے ہمراہ ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے جہاں ان کی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔