اشرف غنی نے افغانستان میں طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی پیشکش کر دی

افغان صدر اشرف نے طالبان کو ملک کے تین صوبوں میں کہیں بھی سیاسی دفتر کھولنے کی پیشکش کی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق اشرف غنی نے صوبہ ننگرہار کے دورے کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ طالبان کے کابل، قندہار یا ننگرہار میں سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں۔
افغان صدر نے کہا کہ ملک میں پائیدار امن اور عزت کے ساتھ امن ضرور آئے گا اور اس کے لیے وہ اپنی جان قربان کرنے کو بھی تیار ہیں۔
اشرف غنی نے طالبان اور اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم مکہ میں امن چاہتے ہیں یا ماسکو میں، قوم پوچھتی ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے طالبان اور اپوزیشن رہنما مکہ کے بجائے ماسکو گئے۔
یاد رہے کہ طالبان اور افغانستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ماسکو میں 5 اور 6 فروری کو مذاکرات ہوئے جس میں کئی اہم معاملات پر اتفاق کیا گیا تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
افغان صدر اشرف غنی پہلے بھی کئی مرتبہ طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں تاہم طالبان افغان قیادت کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مذاکرات سے انکار کرتے رہے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کر رہے ہیں۔