برلن میں تین شامی لڑکیوں پر حملہ، نسلی تعصب کا شبہ

جرمن پولیس برلن میں تین شامی لڑکیوں پر کیے گئے حملوں کی تفتیش کر رہی ہے۔ ایک واقعہ میں ایک بارہ سالہ شامی لڑکی کے سر سے اسکارف کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک خاتون نے اسے سرنج چبھو دی۔
جرمن دارالحکومت برلن کے شمال مشرقی علاقے میں مبینہ طور پر غیر ملکیوں سے نفرت کرنے والے ایک شخص نے دو شامی نو عمر لڑکیوں کے چہروں پر گھونسے مارے اور ان انہیں برا بھلا کہا۔ پولیس کے مطابق ان شامی لڑکیوں کی عمریں پندرہ اور سولہ برس تھی۔ پولیس کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ مشتبہ شخص نے لڑکیوں کو متعدد مرتبہ مکے مارے اور پھر وہ شاپنگ سینٹر میں فرار ہوگیا۔ بعد ازاں دونوں لڑکیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
برلن میں نسل پرستی کے خلاف بڑا مارچ
اس واقعے کے ایک گھنٹے بعد برلن کے جنوب مشرقی علاقے ’نوئے کؤلن‘ میں ایک بارہ سالہ لڑکی پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس حکام کے بقول ایک مشتبہ خاتون حملہ آور نے لڑکی سر سے زبردستی اسکارف اتارنے کی کوشش کی، بال کھینچنے کے ساتھ ساتھ مرچوں والے اسپرے سے اسے خوفزدہ بھی کیا۔ بعد ازاں خاتون نے متاثرہ لڑکی کو خون سے بھرا ایک سرنج چبھونے کی بھی کوشش کی۔ خدشہ ہے کہ یہ حملے غیر ملکیوں سے نفرت کی وجہ سے کیے گئے۔
دو جرمن شہروں میں راہگیروں پر گاڑی چڑھانے سے پانچ افراد زخمی
جرمنی میں غیر ملکیوں کے خلاف نفرت آمیز جرائم میں اضافہ ملکی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ گزشتہ ماہ جرمنی کے مغربی شہر ایسن اور بوٹروپ میں ایک پچاس سالہ شخص نے غیر ملکیوں کو ہلاک کرنے کے لیے انہیں گاڑی سے روندنے کی کوشش کی تھی۔ نئے سال کے موقع پر کیے جانے والے اس حملے میں آٹھ غیر ملکی زخمی ہوگئے تھے، جن میں ایک چار سالہ افغان بچہ اور ایک دس سالہ شامی بچی بھی شامل تھے۔
(AFP, dpa)