جسم کے حوالے سے چند غلط حقائق

انسانی جسم کے حوالے سے چند مکمل طور پہ غلط حقائق ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ معمول کی خوراک میں سبزیاں کھانے، روزانہ آٹھ گھنٹے سونے اور ورزش کرنے سے ہم تندرست و توانا رہیں گے۔
تندرست زندگی گزارنے کے حوالے سے ہم ایسے کئی اور پیمانوں کے بارے میں بھی سنتے ہیں جن پہ عام طور پہ ہم زیادہ دھیان نہیں دیتے۔
پھر اس کے ساتھ ایسی بہت سی دادی اماؤں کی پرانی کہاوتیں بھی ہمارے کانوں میں گردش کرتی ہیں جو نسل در نسل سفر طے کرنے کے بعد ہم تک پہنچیں، جن میں حقیقت اور افسانے کے مابین فرق کو مکمل طور پہ بھلا دیا جاتا ہے۔
اس مضمون میں آپ انسانی جسم سے متعلق ایسے چند حقائق کے بارے میں جانیں گے، جن کا حقیقت سے کوسوں کوئی تعلق نہیں ہے۔
-1ہم دماغ کا صرف دس فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں: انسانی دماغ، جس کا وزن ایک اعشاریہ چار کلوگرام ہے، میں سو ارب کے قریب نیوران موجود ہیں۔
یہ نیوران ایک دوسرے کی جانب معلومات کی ترسیل کرتے ہیں جن کو معانقہ یعنی سینیپسز بولا جاتا ہے، جو دماغ میں کھربوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
انسانی دماغ تین حصوں پر مشتمل ہے، یعنی سیریبرم، سیریبلم اور برین سٹم۔ سریبرم دماغ کے پچاسی فیصد حصے پر مشتمل ہے، جس کے ذمے انسان کی بہت ساری اہم سرگرمیوں کی انجام دہی ہے۔
اس کے بالکل نیچے آپ کو سیریبلم نظر آئے گاجس کا بنیادی مقصد کواآرڈینیشن اور جسم کو توازن فراہم کرنا ہے۔
اسی طرح برین سٹم، جو کہ سپائنل کورڈ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کا کام جسم کے بہت سارے خودکار افعال سر انجام دینا ہے، جیسا کہ سانس لینے اور ہاضمے کا عمل۔
یہ ایک ناقابلِ یقین با ت لگتی ہے کہ اتنے سارے افعال انجام دینے میں دماغ کا صرف دس فیصد حصہ خرچ ہو رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ، یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔
ہم اس کے متعلق تو نہیں جانتے کہ دماغ کے دس فیصد استعمال کا دعویٰ سب سے پہلے کس نے کیا،تاہم اس کا جھوٹا انکشاف پہلی بار وکٹورین دور کے آخری چند سالوں میں کیا گیا۔
اٹھارہ سو نوے کی دہائی کے آخری چند سالوں میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات ولیم جیمز اور بورس سڈس کی تحقیق میں سڈس کے تین سو کے آئی کیو لیول سے یہ ثابت ہوا کہ تمام انسان اس قدر ذہین ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دماغ پہ ذیادہ زور دیں، جو کہ اپنے آپ میں ایک مضحقہ خیز بات لگتی ہے۔
بیسویں صدی میں کی جانے والی مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو چوہے دماغی طور پہ ان فٹ تھے، انہیں چند افعال دوبارہ سے سکھائے جا سکتے ہیں۔ یہ نظریہ پہلے سے موجود ایک کمزور کیس کو مضبوظ کرتا ہے کہ انسانی دماغ لامتناہی غیر معمولی سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک بار پھر افسوس کہ اس حقیقت کو جدید سائنس میں مضحقہ خیز اور بے بنیاد مانا جاتا ہے۔