لاہور : طالب علم سے اجتماعی ذیادتی و قتل راشد ہدایت نے 10گھنٹے میں واردات کیسے ٹریس کی ؟جوتے پر خون کا دھبہ ،،،گرفتارملزم کا اعتراف جرم

لاہور(رپورٹ:سید انوار الحق )رائیونڈ میں دو افراد نے نویں جماعت کے طالب علم جہانزیب عرف ذوہیب کو اغوا کر کے اسے اجتماعی ذیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اسے سر اور چہرے پر اینٹیں مار کر قتل کر دیا ۔ایس پی انوسٹی گیشن صدر میاں راشد ہدایت نے نعش ملنے کے10 گھنٹے میں ہی ملزموں کو ٹریس کر کے ایک ملزم شاہد بھٹی کو گرفتارکروا دیا جبکہ ملزم خنان نونی کی گرفتاری کے لئے سپیشل ٹیم روانہ کر دی ۔بتایا گیا ہے کہ سندر کے خالد احمد کا 14سالہ بیٹا گزشتہ روز گھر سے گیا جو واپس نہ آیا خالد نے اہل علاقہ کے ہمراہ پولیس اسٹیشن جا کر انہیں اطلاع کی ۔بتایا گیا ہے کہ رائیونڈ میں پولیس امام بارگاہ برھان پورہ کے قریب خالی پلاٹ سے لڑکے کی مسخ شدہ نعش ملی تب پولیس نے موقع سے شواہد حاصل کئے ۔ایس پی نوسٹی گیشن صدر میاں راشد ہدایت نے جہانزیب کے موبائل کا فوری ڈیٹا حاصل کیا تو آخری کال شاہد بھٹی کی تھی جب اسے کال کر کے بلایا گیا تو اسی دوران ایس پی نے شاہد بھٹی کے جوتے پر خون کا نشان دیکھ کر اسے مشکوک جانتے ہوئے جہانزیب کے قتل کے تفتیش شروع کر دی ۔شاہد نے بتایا کہ جہانزیب کا موبائل خراب تھا جو اسے ساتھ لیکر گیا لیکن وہ واپس چلا گیا جب ملزم کے جوتے پر خون کا نشان دکھایا تو ملزم ہار مان گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ دوست خنان عرف نونی سے ملکر جہانزیب کو گھر سے بلا کر لے گئے وہاں اس سے دونوں نے ذبردستی ذیادتی کی جس پر جہانزیب نے انہیں دھمکیاں دیں تب اسے سر اور چہرے پر اینٹیں مار کر قتل کر دیا تا کہ اس کی شناخت بھی نہ ہو سکے پولیس نے نعش پوسٹمارٹم کے لئے بھجوا دی ہے جبکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ۔