ہائی ٹیک چینی کمپنی واہوے کا امریکی قانون کے خلاف مقدمہ

جمعرات کے روز چین کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ہواوے نے کہا کہ اس نے اس امریکی قانون کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر دیا ہے جو سرکاری اداروں اور کانٹریکٹرز کو کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکتا ہے۔
یہ مقدمہ ٹیکساس کی ایک وفاقی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2019 کا ڈیفنس ایپرو پری ایشن بل واہوے کی جانب سے امریکہ میں کاروبار کی اہلیت پر ایک غیر آئینی مداخلت ہے۔ کانگریس نے یہ تعین کرنے کے بعد اس بل میں یہ پابندی شامل کی کہ واہوے اور ٹیکنالوجی کی ایک اور کمپنی زیٹی کارپوریشن قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، کیونکہ انہیں چین کی انٹیلی جینس سروسز سائبر جاسوسی کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔
واہوے کے موجودہ چیئر مین گو پنگ کا کہنا تھا کہ واہوے امریکی حکومت کی جانب سے ظاہر کیے گئے سیکیورٹی کے خدشے کو دور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واہوے ایک مناسب اور آخری چارہ کار کے طور پر ان قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہوئی ہے۔
یہ مقدمہ واہوے کی جانب سے امریکی عہدے داروں کے ساتھ ایک دوہری قانونی جنگ کا دوسرا نصف حصہ ہے۔ واہوے کے چیف فانشل آفیسر مینگ وانگ ژہو اور کمپنی کے بانی کی بیٹی رین ژونگ فی کو امریکی پراسیکیوٹرز کی درخواست پر گزشتہ دسمبر وینکوور کینڈا میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
امریکی پراسیکیوٹرز یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان رقوم کی منتقلی سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے کے لیے ملک سے نکالا جائے جن کا تعلق ایران پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی سے ہے۔
وکلا نے منگل کے رو ز عدالت میں کہا تھا کیس کا دفاع تیار کرنے کے لیے انہیں وقت درکار ہے جس کی ایک وجہ سیاسی مسائل اور امریکی صدر کے تبصرے بھی ہیں۔ مینگ اس وقت گھر میں نظر بند ہیں اور وہ اگلی سماعت پر 8 مئی کو عدالت ہوں گی۔
امریکی عہدے دار اس موقف کو مسترد کرتے ہیں کہ رین کا کیس امریکہ اور چین کے درمیان وسیع تر تجارتی مذاكرات سے منسلک ہے جن کا مقصد چین کی تجارت، سرمایہ کاری اور املاک دانش کے حقوق کی پالیسیوں پر امریکی خدشات کو دور کرنا ہے۔
بدھ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ کیس قانون کے نفاذ کا ایک معاملہ ہے اور کینیڈا امریکہ کی جانب سے ملک بدری کی درخواست زیر غور لا کر اپنے معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔