ناک سے لی جانے والی ڈپریشن کی نئی دوا

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے ڈپریشن دور کرنے والی ایک ایسی دوا کی منظوری دی ہے جسے کھایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ ناک کی پھوار (اسپرے) ہے جو براہِ راست دماغ میں جاکر اپنا اثر دکھاتی ہے۔
اسپرے ایسے مریضوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو کسی بھی دوا سے ٹھیک نہیں ہوپاتے اور اس دوا کی تیاری کے لیے دس سال مسلسل تحقیق کی گئی ہے جو دماغ پر ایک خاص انداز سے اثرانداز ہوتی ہے۔
کیٹامائن پر مبنی اس دوا کو ایسکیٹامائن کا نام دیا گیا ہے اور مریض سمیت ڈاکٹروں کو بھی اس کا انتظار ہے تاکہ مریضوں پر اس کے نتائج دیکھے جاسکیں۔ خیال رہے کہ کیٹامائن مرکب آپریشن کے لیے بے ہوش کرنے والی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر یہ اسپرے فوری طور پر دماغ پر اثر کرکے مریض کو دماغی افسردگی اور تناؤ سے نجات دلاسکے گا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسکیٹامائن ایسے مریضوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی جو کسی بھی دوا سے ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ علاج کے باوجود ڈپریشن کے بھنور میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔
تاہم اس دوا کے ڈبے پر ایف ڈی اے کا سخت ترین انتباہ درج ہے جسے ’بلیک باکس وارننگ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسپرے استعمال کرنے والا غنودگی، نشے والی کیفیت، توجہ کی کمی، فیصلے اور سوچنے میں دقت کا شکار ہوسکتا ہے۔
اسی بنا پر ایسکیٹامائن استعمال کرنے والے شخص سے کہا گیا ہے کہ وہ اسے استعمال کرنے کے بعد دو گھنٹے تک کسی کی نگرانی میں رہیں یا کوئی ان کا خیال ضرور رکھے۔ دوسری جانب سند یافتہ ڈاکٹر یا کلینک ہی یہ دوا استعمال کروائے گا اور یہ دوا مریض کو نہیں دی جائے گی۔