پاکستان میں فالج کے 22 فیصد مریض معذور یا موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

پاکستان میں فالج کے حملے کا شکار ہونے والے کم ازکم 22 فیصد افراد یا تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا پھر معذور ہوجاتے ہیں۔
جامعہ کراچی میں منعقدہ دماغی امراض کی انتہائی نگہداشت کے دوروزہ کورس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دماغی حادثات بالخصوص فالج کے شکار مریضوں کے علاج کی نامناسب سہولیات ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے ملک بھر میں فالج، حرام مغز کے امراض، دماغی رسولیوں اور دماغی چوٹ کے آئی سی یو اور مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں اِن جان لیوا دماغی کیفیات کا علاج اور مریضوں کی نگہداشت کی جاسکے۔
جامعہ کراچی میں واقع ڈاکٹر پنجوانی مرکز برائے سالماتی ادویہ اور تحقیق (پی سی ایم ڈی) کے زیرِ اہتمام دو روزہ ’نیورو کریٹکل کیئر ٹیچنگ کورس 2019‘ منعقد ہوا۔
اس کا افتتاح آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کیا۔
ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے ٹیچنگ کورس کا افتتاح کیا، کورس کا اختتام جمعہ کی شام اختتامی تقریب سے ہوا۔ 
کورس میں آسٹریا کے معروف ماہرین سمیت یونیورسٹی انسبرک کے پروفیسر ڈاکٹر ایرک شمیز ہارڈ اور ڈاکٹر ریمنڈ ہیلبک نے خصوصی خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے ڈاکٹر سید طارق معین نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔
ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹروں اور دماغی ماہرین کی تربیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کی جان بچائی جاسکے اور ان کا علاج کیا جاسکے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ایرک شمیز ہارڈ نے کہا کہ فالج، برین ہیمریج، دماغی صدمات اور چوٹ، دماغ میں آکسیجن کی کمی بیشی، کھوپڑی کے اندر دباؤ یا پریشر اور دیگر امراض ایسے ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
اس کورس میں پورے ملک سے 40 کے قریب ماہرین نے شرکت کی جن میں نیورو لوجسٹ، دماغی سرجن اور دیگر شعبوں کے ماہرین شامل تھے جبکہ طب کے طلبا و طالبات کی بڑی تعداد بھی اس کورس میں موجود تھی۔ تمام شرکا نے اس اہم کورس کو انتہائی پیشہ ورانہ اور مفید قرار دیا۔