کان پھاڑ دینے والے شور کو بس دکھاؤ چھلا

سائنسدانوں نے ریاضیاتی ماڈل استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا چھلا تیار کیا ہے جو ہوا کو تو کان کے اندر آنے دیتا ہے لیکن شور کو سماعت تک نہیں پہنچنے دیتا۔
اسے بوسٹن یونیورسٹی سے وابستہ مکینکل انجینئر رضا غفاری ورد واغ نے بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’ کان پھاڑ دینے والے شور کو روکنے کے لیے موٹی دیواریں بنائی جاتی ہیں۔
ان سے باہر کا شور تو رک جاتا ہے لیکن ہوا کی آمدورفت بھی موقوف ہوجاتی ہے۔ ‘
فزیکل ری ویو نامی جرنل میں چھپنے والی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ انہوں نے ریاضی اور تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے یہ چھلا بنایا ہے۔
یہ شور کو عین اسی سمت لوٹادیتا ہے جہاں سے وہ آتا ہے جبکہ ہوا اندر کی جانب آتی رہتی ہے۔ یہ سب کچھ اس شکل کی وجہ سے ممکن ہوتا جسے مرغولے دار ساخت میں مرتب کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ چھلا ایک طرح کے خاص مادے سے بنایا ہے جسے ’میٹا مٹیریل‘ کے زمرے میں شامل کیا جاتاہے۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی کا نیا میدان ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا مستقبل بہت روشن ہوگا۔ آواز حقیقت میں ہوا کے ارتعاشات ہی ہیں اور انہیں خاص ڈیزائن کردہ مٹیریل سے خاموش کرایا جاسکتا ہے۔
لیکن اس چھلے کی ٹیکنالوجی کو کسی آڈیٹوریم میں آزمانے کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کسی ہال میں آواز کسطرح سفر کرتی ہے اور ماہرین اس پر بھی کام کررہے ہیں۔
تجرباتی نہیں بلکہ نظری طور پر پہلے انہوں نے لاؤڈ اسپیکر سے آنے والی بلند آواز کو روکنے کی کوشش کی اور نظری اعتبار سے اس ماڈل کی افادیت ثابت ہوگئی۔
اس کے بعد اسے تجربہ گاہ میں آزمایا گیا تو ان کے اسٹرکچر نے کامیابی سے آواز کو روک دیا۔
کئی آزمائشوں سے ثابت ہوا ہے کہ میٹامٹیریلز کو مناسب انداز میں ڈیزائن کرکے آواز اور شور کو84 فیصد کامیابی سے روکا جاسکتا ہے۔