لاہور پولیس :لوٹ مار ،کارگردگی ساتھ ساتھ،،جواریوں اوردوستوں سے کی لوٹ مار،،منشیات کا جھوٹا مقدمہ ،،ایماندار انسپکٹر تبدیل انکوائری میں الزامات ثابت

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)لاہور پولیس نے لوٹ مار کے ساتھ کارگردگی بنانے کے لئے شہریوں اور جرائم پیشہ افراد کو لوٹنے کے بعد جھوٹے مقدمات درج کرنے کاسلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ڈی آئی جی لاہور نے ایس ایس پی ڈسپلن لاہور کی رپورٹ پر ایس یچ او رائے ناصر کو تبدیل کر دیا جس کے بعد اس کے خلاف کرپشن اور جھوٹے مقدمات کی انکوئریز کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔بتایا گیا ہے کہ سابق ایس ایچ او مغلپورہ انسپکٹر رائے منصب نے کارگردگی کے ساتھ اپنا بنک بیلنس بڑھانے کا سلسلہ شروع دیا ۔پولیس رپورٹ کے مطابق انسپکٹر رائے ناصر نے دوست بکیے زبیر کی رپورٹ پر بکیئے شانی بٹ کے اڈے پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا اور وہاں موجود لاکھوں روپے بھی قبضہ میں لے لئے ۔اسی دوران بکیے زبیر موبائل فون پر اسے ہدایات دیتا رہا جس پر انسپکٹر اور اسکی ٹیم 7گھنٹے تک وہاں بیٹھ کر کمیٹیا ں دینے جوئے کی رقم لگانے اور شانی سے کال کروا کے اسکے دوستوں سے رقم منگواتا رہا ۔پولیس ذرائع کا کہناہے کہ تقریبا سوا کڑور کی رقم اکھٹی ہونے پر شانی بٹ کے خلاف جوا اور اس پر ڈیڑھ کلو چرس کا مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھجوا دیا ۔شانی بٹ کے بھائی نے دبئی سے لاہور پہنچ کر آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو درخواست اور پولیس کی کئی گھنٹے شانی کے دفتر بیٹھ کر لوٹ مار کی ویڈیو بھی فراہم کی ۔سی سی پی او لاہور کے حکم پر ایس ایس پی ڈسپلن نے اس معاملے پر انکوائری شروع کی ۔ذرائع کا کہناہے کہ الزامات سچ ثابت ہوئے جب انسپکٹر رائے ناصر سے چرس کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے بارے باز پر س کی تو اس نے بتایا کہ جوئے کے مقدمے کی اگلے روز ضمانت ہو جاتی ہے اس لئے ملزمان پر چرس کا مقدمہ درج کیا جا تا ہے تا کہ انکی جلد ضمانت نہ ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر رائے ناصر کو تبدیل کیا گیا تو اسکے خلاف کرپشن اور جھوٹے مقدمات کے اندارج کی شکایات لیکر شہری سی سی پی او لاہور کے پاس پہنچ گئے جن پر الگ الگ انکوائریز زیر سماعت ہیں ۔