کیتھولک چرچ کے اعلیٰ عہدیدار کو بچوں کے ریپ کا الزام میں 6 سال قید کی سزا

آسٹریلیا کی عدالت نے ریپ کے الزامات کا سامنا کرنے والے کارڈینل جارج پیل کو 6 سال قید کی سزا سنادی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جارج پیل کو 1996 میں میلبورن کیتھیڈرل میں 2 لڑکوں کے ریپ کے الزامات کا سامنا تھا۔
جارج پیل، جو ایک وقت میں ویٹیکن کے چیف فنانشل افسر اور پاپ فرانسز کے ایڈوائزر بھی رہ چکے ہیں، بچوں سے ریپ کے الزام میں سزا پانے والے کیتھولک چرچ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیدار ہیں۔
چیف جج پیٹر کڈ نے میلبورن کورٹ کو بتایا کہ جارج پیل کے عمل سے متاثرہ بچوں پر اور دیگر بچوں پر ‘گہرے اثرات’ مرتب ہوئے، جو بعد ازاں منشیات کے زائد استعمال کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے جارج پیل پر بچوں کے ساتھ ریپ کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ‘بدمعاش’ قرار دیا، ایک گھنٹہ طویل جاری رہنے والے بیان کے دوران جارج پیل خاموش رہے اور سنجیدہ دیکھائی دیئے۔
گزشتہ سال دسمبر میں 77 سالہ جارج پیل پر بچوں کے ریپ کے 5 الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
خیال ہے کہ اس فرد جرم سے متعلق رپورٹ دباؤ کے باعث میڈیا کو فروری تک فراہم نہیں کی گئی تھی۔ عدالت کے باہر پراسیکیوٹر جان لورینس نے بتایا کہ ‘7 ہزار پادریوں کو بچوں کے ریپ کے الزامات کا سامنا ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی چرچ میں پادریوں کے جنسی استحصال کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کیس کے بعد وہ بھی قانون کا سامنا کریں’۔
کیئر لیورز آسٹریلیاسیا نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد، ان میں بیشتر استحصال کا شکار ہوئے تھے، کا کہنا تھا کہ یہ سزا کافی نہیں لیکن اس بات پر خوشی ہے کہ جارج پیل کو قید کیا جائے گا۔
ایک متاثرہ شخص نے جارج پیل کو دی جانے والی سزا کو ‘ایک مزاق’ قرار دیا۔
میلبورن کی وکیل انجیلا سدرینیس، جو گزشتہ 2 دہائیوں سے متاثرہ افراد کی نمائندگی کررہی تھیں، کا کہنا تھا کہ بچوں کے ریپ کے الزامات کا سامنا کرنے والے جارج پیل کو دی جانے والی سزا یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں۔
خیال رہے کہ 27 فروری 2019 کو مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کے قریبی ساتھی اور پاپائیت کے مرکز ویٹی کن کے خزانچی رہنے والے 77 سالہ آسٹریلوی پادری جارج پیل کو بچوں سے جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔
6 فروری 2019 کو کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اعتراف کیا تھا کہ مذہبی پیشواؤں اور پادریوں کی جانب سے راہباؤں(نن) کے ساتھ ریپ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں رومن کیتھولک چرچ کے مالی امور کے سربراہ اور پوپ فرانسس کے اعلیٰ ترین معاون کارڈِنل جارج پیل پر ’تاریخی‘ جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال جولائی میں آسٹریلیا کی عدالت نے کیتھولک آرج بشپ فیلپ وِلسن کو 70 کی دہائی میں بچوں سے ریپ کے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کے جرم میں 12 ماہ کی نظر بندی کی سزا سنائی تھی۔
واضح رہے کہ فیلپ وِلسن ایڈیلیڈ میں آرچ بشپ تھے اور وہ سینئر کیتھولک کلیسا کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز تھے۔
واضح رہے کہ راہباؤں کے ساتھ ریپ کے واقعات اس وقت منظر عام پر آنا شروع ہوئے جب بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک راہبہ نے پاردی پر الزام عائد کیا تھا کہ اسے پادری کی جانب سے متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
جنوبی کیرالا میں پادری فانکو ملاکول کو ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد پوپ فرانسس نے انہیں جنسی اسکینڈل کی بنیاد پر ذمہ داری سے فارغ کردیا تھا۔
پادری فانکو ملاکول پنجاب کی شمالی ریاست جالندھر میں روم کیتھولک ڈایوسس کے سربراہ تھے جن پر2014 سے 2016 کے درمیانی عرصے میں 13 مرتبہ راہبہ کے ساتھ ریپ کا الزام ہے۔
گزشتہ برس نومبر میں کیتھولک چرچ کی عالمی تنظیم برائے نن نے مطالبہ کیا تھا کہ پادریوں کے ہاتھوں جنسی ہراساں کا نشانہ بننے والی تمام راہباؤں "خاموشی اور خوف کا دائرہ” توڑ کر اپنی آواز بلند کریں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق انہوں نے زور دیا تھا کہ اپنے ساتھ ہونی والی جنسی زیادتی کو پولیس میں رپورٹ کریں۔
گزشتہ برس ہی اگست میں نیویارک کی نئی جیوری کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پنسلوینا میں 6 کیتھولک انتظامیہ سے حاصل دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ تقریباً 300 پادریوں نے ایک ہزار سے زائد بچوں کا ریپ کیا۔
اس سے 2 ماہ قبل جون میں پوپ فرانسس نے بچوں کے ساتھ ریپ کے اسکینڈل میں ملوث چلی کے 3 پادریوں کے استعفے منظور کیے تھے۔
جولائی کے مہینے میں آسٹریلیا کی عدالت نے کیتھولک آرج بشپ فیلپ وِلسن کو 70 کی دہائی میں بچوں سے ریپ کے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کے جرم میں 12 ماہ کی نظر بندی کی سزا سنادی تھی۔