نیویارک: اعلیٰ تعلیمی اداروں کا داخلہ اسکینڈل، ہالی ووڈ شخصیات ملوث نکلیں

ہالی وڈ سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات اپنے بچوں کا داخلہ امریکا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیز میں کروانے کے لیے بھاری رقوم دینے کے اسکینڈل میں ملوث نکلیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ لاکھوں ڈالر کے اسکینڈل میں ملوث 50 شخصیات میں مشہورِ زمانہ امریکی مزاحیہ کھیل ’ڈیسپریٹ ہاؤس وائیوز‘ کی اسٹار فیلیکٹی ہف مین اور ساتھ اداکارہ لوری لوفلِن شامل ہیں۔
وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق دیگر ملزمان میں بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو، فنانسرز، وائن میکر اور فیشن ڈیزائنرز شامل ہیں جنہوں اپنے بچوں کا داخلہ اعلیٰ تعلیمی اداروں مثلاً ییل، اسٹینفورڈ، جارج ٹاؤن اور سدرن کیلی فورنیا یونیورسٹی میں کروانے کے لیے مبینہ طور پر داخلہ ٹیسٹ میں دھوکہ دہی کی یا رشوت دی۔
ان افراد نے کیلیفورنیا کے ولیم رِک سنگر کے فلاحی ادارے کو جعلی عطیات دیے تا کہ وہ رقم متعلقہ لوگوں تک پہنچا کر اپنے بچوں کا داخلہ امتحان کامیاب بنا سکیں۔ اور بچوں کے کامیاب نہ ہونے کی صورت میں اسی رقم سے یونیورسٹی انتطامیہ اور اسپورٹس کوچز کو رشوت دی جاسکے تا کہ یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والے کھیلوں میں ناکامی کے باوجود انہیں ٹیم میں شامل کیا جائے۔
56 سالہ فیلیکٹی ہف مین اور 54 سالہ لوری لوفلِن، جو ’فل ہاؤس‘ کی اسٹار ہیں، ان 33 والدین میں شامل تھیں جن پر اس اسکیم کے لیے میل فراڈ کی سازش کرنے کا الزام ہے جبکہ اسکینڈل کی اس فہرست میں لوری لوفلِن کی فیشن ڈیزائنر کے شوہر موسِمو بھی شامل ہیں۔
اس سلسلے میں 4 افراد پر یہ اسکیم کرنے کا الزام اور یونیورسٹی اسپورٹس اور ٹیسٹنگ سسٹم کے 13 عہدیداروں کو اس معاونت کرنے پر مقدمہ کردیا گیا ہے۔
میساچوٹیس، بوسٹن کے اٹارنی جنرل اینڈریو لیلنگ کے مطابق ادا کی گئی رقم 2 لاکھ ڈالر سے لے 65 لاکھ ڈالر تک ہے۔