آسٹریا کی ’جان لیوا گائیں‘: حکومت کا قانون میں تبدیلی پر غور

آسٹریا میں حکومت ایک قانون کے ذریعے ایسی پالیسی متعارف کرانے کی کوشش میں ہے، جس کا مقصد کسانوں کا تحفظ ہے۔ اس پیش رفت کی وجہ ایلپس کے پہاڑی علاقے میں خوف زدہ گائیوں کے ہاتھوں ایک جرمن خاتون سیاح کی ہلاکت بنی۔
آسٹرین دارالحکومت ویانا سے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی کے ہمسایہ اس ملک میں ایلپس کے پہاڑی سلسلے کے انتہائی خوبصورت مناظر والے علاقوں میں سیاحوں، خاص کر پہاڑی علاقوں میں ہائیکنگ کرنے والے افراد کو اب ایک ضابطہ اخلاق پر لازمی عمل درآمد کرنا ہو گا۔
اس موضوع پر آسٹریا کے وفاقی چانسلر سباستیان کُرس نے ویانا میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا، ’’ہم ایک ایسا نیا لیکن بہت واضح ضابطہ اخلاق متعارف کرائیں گے، جس پر پہاڑی علاقوں کے سرسبز حصوں اور چراگاہوں سے گزرنے والے مقامی اور غیر ملکی سیاحوں دونوں کو لازمی عمل کرنا ہو گا۔‘‘
یورپی یونین کے رکن اس ملک میں جو واقعہ اب اس پیش رفت کی وجہ بنا، وہ 2014ء میں ٹیرول کے پہاڑی علاقے میں پیش آیا تھا۔ تب اس علاقے میں ہائیکنگ کرنے والی ایک جرمن خاتون سیاح کے ساتھ اس کا کتا بھی تھا، جس سے وہاں ایک چراگاہ میں موجود گائیں انتہائی خوفزدہ ہو گئی تھیں۔ یہ مویشی اتنے بدحواس ہو گئے تھے کہ انہوں نے بھاگتے ہوئے اس کتے کی مالکہ کو اپنے پاؤں تلے رونڈ ڈالا تھا اور اس جرمن شہری کا انتقال ہو گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد یہ معاملہ ایک مقدمے کی صورت میں اِنسبرُوک کی ایک عدالت تک جا پہنچا تھا، جس نے گزشتہ مہینے یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ ان گائیوں کا مالک آسٹرین کسان زر تلافی کے طور پر ہلاک ہو جانے والی 45 سالہ جرمن سیاح کے خاندان کو کئی لاکھ یورو ادا کرے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ اس کسان کے خلاف اس وجہ سے سنایا تھا کہ اس نے اپنی گائیوں کو کسی ایسی جگہ نہیں رکھا ہوا تھا، جہاں باڑ لگی ہوئی ہو۔
اس بارے میں آسٹریا کی وزیر سیاحت الزبتھ کوئسٹنگر نے کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے پہاڑی علاقوں کی چراگاہیں یا تو بند کر دی جائیں یا ان کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے۔ اس لیے اب ہمیں لوگوں کو یہ بتانا پڑے گا کہ مخصوص حالات میں جنگلی یا زرعی فارموں پر پالے جانے والے جانوروں کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔‘‘
وزیر سیاحت کے مطابق، ’’کتوں کو دیکھتے ہی اکثر گائیں اس لیے خوفزدہ ہو جاتی ہیں کہ وہ یہ محسوس کرنے لگتی ہیں کہ انہیں اپنے بچھڑوں کو ان کتوں سے ہر حال میں بچانا ہو گا۔‘‘
ایلپس کے اس آسٹرین علاقے میں اب سیاحوں اور ہائیکرز کے لیے جو نیا ضابطہ اخلاق بنایا جا رہا ہے، اس میں یہ بات بھی شامل ہو گی کہ اگر گائیں خوفزدہ ہو کر حملہ کر دیں، تو کسی بھی سیاح کو اپنے کتے کی رسی کھول دینا ہو گی تاکہ وہ خود محفوظ رہ سکے۔
2014ء میں جو جرمن خاتون ان گائیوں کے پیروں تلے کچلے جانے سے ہلاک ہو گئی تھی، اس نے اپنے کتے کی رسی کو اپنی کمر سے باندھ رکھا تھا اور یہ بات بھی اس کی موت کی وجہ بنی تھی۔ آسٹرین چانسلر کُرس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتائے بغیر ویانا میں کہا، ’’ہم چاہیں گے کہ ہر کوئی اس آئندہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ لیکن جو اس ضابطے کو نظر انداز کرے گا، اسے زر تلافی کے مطالبات کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔‘‘
اے ایف پی، روئٹرز