ملاوٹ شدہ غذاؤں سے اجتناب کیجئیے

صنعتی ترقی کی وجہ سے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے، وہاں اس صنعتی ترقی نے اس سے خالص غذا تک چھین لی ہے۔ اب جدید طریقوں سے ملاوٹ کی جارہی ہے۔
اب جدید طریقوں سے ملاوٹ کی جارہی ہے۔ ڈبا بند دودھ اگر چہ دودھ ہی ہوتا ہے، لیکن اس میں گائے اور بکری کا دودھ بھی شامل کر دیا جاتا ہے۔
کیمیائی طریقوں سے دودھ بنانے کے کئی طریقے بھی ایجاد ہو گئے ہیں۔ چھوٹے خورد ہ فروش بھی انھی طریقوں سے مصنوعی دودھ تیار کرکے فروخت کرتے ہیں۔
ڈیٹر جنٹ(DETERGENT)،یوریا،خوردنی تیل،لیکوئیڈ ہائڈروجن،ملک پاؤڈر اور ڈھیر سارا پانی ملا کر دودھ تیار کر لیا جاتا ہے ،جس پر صرف۔30۔40روپے فی لیٹر لاگٹ آتی ہے۔
پھر اس دودھ کو100روپے فی لیٹر فروخت کیا جاتا ہے، یعنی فی لیٹر 60۔70روپے منافع کمایا جاتا ہے ۔یہ کتنا بڑا ستم ہے کہ خریدار دودھ فروش کو 60۔
70روپے زیادہ بھی دیتا ہے اور اپنی اور خاندان والوں کی صحت بھی داؤ پر لگاتا ہے ۔
بھینسوں کو مضرِ صحت ٹیکا لگا کر جو دودھ حاصل کیا جارہا تھا،وہ زہر سے کم نہ تھا۔پھر آربی ایس ٹی (RBST) ،باسٹن 250، ایتھوسیل، اوکسی ٹوجن اور دیگر مضرِ صحت ٹیکوں پر پابندی لگا دی گئی۔
جن کے استعمال پر دنیا بھرمیں پہلے ہی سے پابندی عائد ہے ،کیوں کہ جن مویشیوں کو یہ ٹیکے لگائے جاتے ہیں، ان کا دودھ پینے اور گوشت کھانے والے افراد سرطان اور دوسرے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
لیکن بے حسی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ پابندی کے باوجود یہ مہلک ٹیکے اب بھی بازار میں دستیاب ہیں اور چوری چھپے زیادہ قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں۔