نیوزی لینڈ: مسجد میں قتل وغارت مچانے والے حملہ آور کی تفصیلات جاری

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں اندھا دھند فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کے بارے میں میڈیا نے بعض تفصیلات جاری کی ہیں۔ واقعے میں 40 افراد شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 25 کی حالت تشویش ناک ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی مبینہ قاتل کی بعض تصاویر گردش میں آئی ہیں جن میں وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ ہتھیاروں پر بعض نام تحریر کیے گئے ہیں جن کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے "بعض حملوں کا ارتکاب کیا”ـ
برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کے مطابق مسجد میں قتل و غارت مچانے والا مبینہ حملہ آور 28 سالہ نوجوان ہے جو آسٹریلوی شہریت رکھتا ہے۔ اس نے مسجد میں داخل ہو کر چاروں طرف گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں مسجد میں موجود درجنوں افراد شہید اور زخمی ہو گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
اخبار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے النور مسجد کے واقعے کے دوران 50 سے زیادہ گولیاں چلائے جانے کی آوازیں سنیں۔
مبینہ قاتل نے ٹویٹر پر اپنا تعارف "برنٹن ٹرنٹ” کے نام سے کرایا ہے۔ اس نے نماز جمعہ کے وقت مسجد کے اندر وحشیانہ فائرنگ کی پوری کارروائی کی وڈیو براہ راست سوشل میڈیا پر نشر کی۔ قاتل نے واقعے سے قبل ٹویٹر پر 87 صفحات پر مشتمل ایک بیان بھی پوسٹ کیا ہے جس میں ایک "دہشت گرد حملے” کی دھمکی دی گئی۔
ٹویٹر پر زیر گردش تصاویر میں حملہ آور کی گاڑی کی پُشت میں موجود خودکار ہتھیار نظر آ رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں واقع ’ بگ ریور جم ‘میں ٹرینر کے طور پر کام کیا تھا۔
جم کی مینیجر ٹریسی گرے نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کرنے والے مسلح حملہ آور کا نام برینٹن ٹیرنٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ برینٹن نے 2009 سے 2011 تک ان کے جم میں کام کیا جس کے بعد وہ ایشیا اور یورپ کے سفر پر روانہ ہوگیا تھا۔
اسی رپورٹ میں 1990 میں لی گئی ایک خاندانی تصویر بھی شامل ہے جس سے متعلق کہا گیا ہے کہ برینٹن اپنے والد روڈنی کی گود میں موجود ہیں، روڈنی کی اہلیہ اور بیٹی بھی ان کے برابر کھڑی ہیں۔