شمالی کوریا کا امریکا سے جوہری مذاکرات معطل کرنے پر غور

شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ چوئے سون ہوئی کا کہنا ہے کہ ویتنام میں ملک کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد جزیرہ نما کوریا، واشنگٹن سے جوہری مذاکرات معطل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بین الاقوامی حلقوں میں پیانگ یانگ کے ممکنہ لانگ رینج میزائل یا اسپیس لانچ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ چوئے سون ہوئی نے روسی خبر ایجنسی ‘طاس’ کو بتایا کہ ’ہم امریکا کے کسی مطالبے کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، نہ ہی اس قسم کے کسی مذاکرات کے خواہاں ہیں‘۔
چوئے سون ہوئی نے پیانگ یانگ میں صحافیوں اور غیر ملکی سفارتکاروں کو بتایا کم جونگ اُن جلد ہی اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق سرکاری بیان جاری کریں گے۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنوئی سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ نے میزائل اور جوہری تجربات روکنے پر پابند رہنے کا وعدہ کیا۔
تاہم 2 ہفتے قبل ویتنام میں ہونے والی ملاقات بےنتیجہ ختم ہونے کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی کوئی لانچنگ، ان ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق بات چیت کا مکمل خاتمہ کردے گی۔
چوئے سون ہوئی جو ویتنام میں امریکی صدر سے ملاقات کےموقع پر موجود تھیں، انہوں نے امریکا کو اجلاس کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو اور مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے بے اعتمادی کی فضا قائم کرتے ہوئے کم جونگ اُن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش میں رکاوٹ پیدا کی۔
چوئے سون ہوئی نے کہا کہ ’جس کے نتیجے میں سربراہی اجلاس کسی اہم نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا‘۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کی جانب سے شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ کے بیان سے متعلق کہا گیا کہ ’صرف چوئے سون ہوئی کے بیان سے موجودہ حالات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جنوبی کوریا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کی کوشش جاری رکھے گا۔
واشنگٹن، شمالی کوریا پر عائد کی گئی تمام پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں تباہ کن ہتھیاروں کے مکمل خاتمے سے متعلق ایک ’بڑا معاہدہ‘ چاہتا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سینئر عہدیدار نے کہا تھا کہ ’اس حوالے سے انتظامیہ میں سے کوئی بھی قدم بہ قدم طریقہ کار پر عمل کرنا نہیں چاہتا‘۔
دوسری جانب شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف 17-2016 میں اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں جزوی طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ان سے لوگوں کا روزگار متاثر ہورہا ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کی جانب سے عائد تمام امریکی پابندیاں ہٹانے کے اصرار پر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم کی سربراہی ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔
اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔ 27 فروری کو دونوں ممالک کے سربراہان نے 30 منٹ کے مختصر دورانیے پر مشتمل نجی ملاقات میں بات چیت کےبعد صحافیوں سے گفتگو کی تھی۔
بعد ازاں ہنوئی میں غیر رسمی عشائیے کے آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان پرسکون اور بے تکلف نظر آئے تھے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے شمالی کوریا کے سربراہ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم رہنما قرار دیا اور کہا تھا کہ ’چیئرمین کم کے ساتھ ویتنام میں ہونا ایک اعزاز ہے‘۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ اس ملاقات کو ایک کامیاب سربراہی اجلاس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر کم جونگ ان نے کہا تھا کہ ’ہم تمام رکاوٹوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے اور آج ہم یہاں موجود ہیں‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 12 جون کو سنگاپور کے ایک شاندار ہوٹل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر جوہری تنصیبات کی نمائش سے گریز کیا گیا تھا۔
تاہم شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور بیلسٹک میزائل کی تخفیف کے کے چند واضح اقدامات کے بعد امریکی صدر کو تنقید کا سامنا تھا۔
بعد ازاں گزشتہ برس دسمبر میں شمالی کوریا نے امریکی کی جانب سے عائد کی گئی حالیہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن کے اقدامات سے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔