ٹی بی کے مریضوں کو اب بار بار دوا کھانے کی ضرورت نہیں

ٹی بی کے مریضوں کو بار بار کئی طرح کی ادویہ کھانا ہوتی ہیں جو ایک پریشان کن عمل بھی ہوتا ہے لیکن اب ماہرین نے پیٹ میں اتر کر دوا خارج کرنے والی چھوٹی سی کوائل تیار کی ہے جو معدے میں اتر کر وہاں رہتے ہوئے کئی دن اور ہفتوں تک دوا خارج کرتی رہتی ہے۔
دوا سے بنی ہار نما کوائل کو میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کی سائنس داں ملویکا ورما اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے۔
کوائل بننے کے بعد اس کی لمبائی 10 سینٹی میٹر رہ جاتی ہے جس میں جابجا دوائیں بھری ہیں۔ جس طرح دھاگے میں سوراخ والی ٹافیاں لگائی جاتی ہیں عین اسی طرح مختلف دواؤں والی گولیاں اس کا حصہ ہوتی ہیں اور ہر گولی ایک خاص دوا رکھتی ہے۔
 اس کوائل کو سیدھا کرکے پہلے ناک یا حلق کے راستے پیٹ میں پہنچایا جاتا ہے اور پیٹ کے اندر جاکر وہ دوبارہ کوائل کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اب اس پر لگی مختلف دوائیں اپنے پالیمر کے لحاظ سے مختلف شرح سے پیٹ میں گھلتی اور خارج ہوتی رہتی ہیں۔
اس طرح ساری دوا استعمال ہونے کے بعد باقی رہنے والی کوائل مقناطیس کے ذریعے جسم سے باہر نکال لی جاتی ہے۔
ماہرین نے اس کی افادیت کے لیے اس میں کچھ اینٹی بایوٹکس لگا کر کوائل کو سوؤروں پر آزمایا۔ ایک ماہ تک خون اور دیگر ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ کوائل سے مسلسل دوا گھل رہی ہے اور خنزیروں کے جسم میں شامل ہورہی ہے۔
اس دوران کسی طرح کے کوئی مضر اثرات (سائیڈ افیکٹس) بھی مرتب نہیں ہوئے۔ جانوروں میں وزن کی کمی، کھانے کے مسائل، معدے میں زخم اور فضلوں کے اخراج سمیت کوئی مسئلہ نہیں دیکھا گیا۔
دور دراز اور غریب علاقوں میں ٹی بی کے مریضوں کے لیے دوا کا حصول مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے لیے کئی اقسام کی ادویہ روزانہ کھانا ہوتی ہیں۔ ادویاتی کوائل سے یہ مشکل حل ہوسکتی ہے اور ایک کوائل کئی ہفتوں اور مہینوں تک دوا خارج کرتی رہتی ہے۔
اگر ٹی بی کے علاج کے دوران مریض کسی بھی جگہ دوا لینے میں غفلت برتتا ہے تو ٹی بی کے جراثیم خود کو بدل کر مضبوط ہوجاتے ہیں اور پھر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ دوا اپنا اثر کھودیتی ہیں۔
اس مرض کو دوا سے مزاحم ٹی بی یا ’ڈرگ ریزسسٹنٹ ٹی بی ‘ کہا جاتا ہے۔