سویڈن کی 16 سالہ لڑکی امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد

یورپی ملک ناروے کے تین اراکین پارلیمنٹ نے یورپ کے ملک سویڈن سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ لڑکی گریتا تھنبرگ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کردیا۔ اگر گریتا تھنبرگ امن کا نوبل انعام جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو وہ دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ہوں گی۔
ان سے قبل پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو 2014 میں 17 برس کی عمر میں امن کا نوبل انعام دیا تھا۔
گزشتہ برس عراق کی یزیدی لڑکی نادیہ مراد بھی کم عمری میں نوبل انعام جیتنے والی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ نادیہ مراد کو 25 برس کی عمر میں نوبل انعام دیا گیا۔ معروف میگزین ’ٹائمز‘ کے مطابق 16 سالہ گریتا تھنبرگ کو ناروے کے 3 ارکان پارلیمنٹ نے انہیں ان کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق خدمات کے پیش نظر امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا۔
رپورٹ میں ناریجن میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گریتا تھنبرگ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے والے اراکین کا کہنا تھا کہ انہوں نے سویڈش لڑکی کو ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کوششیں لینے کے لیے نامزد کیا ہے۔
اراکین کے مطابق ان کے خیال میں اگر گریتا تھنبرگ کی کاوشوں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کوششیں نہیں کی گئیں تو دنیا جنگوں، بیماریوں اور دیگر مسائل کا شکار بن سکتی ہے۔
شوبز گھرانے میں جنوری 2003 کو سویڈن میں پیدا ہونے والی گریتا تھنبرگ ہائی اسکول کی طالبہ ہیں جو گزشتہ 2 سال سے دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔ گریتا تھنبرگ کو دنیا کے ماحول کو تبدیل کرنے کا خیال 2018 کے موسم گرما میں اگست کے دوران اس وقت ہوا جب ان کے ملک میں سخت گرمی تھی جس وجہ سے وہ اسکول نہ جا سکیں تھیں۔
کئی دنوں تک اسکول نہ جانے کے باعث انہوں نے ابتدائی طور پر سویڈن میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے مہم کا آغاز کیا اور سب سے پہلے اپنے اسکول کے طلبہ کے ساتھ ایک چھوٹے مظاہرے کا انعقاد کیا۔
سویڈن میں چھوٹے مظاہرے کے بعد انہیں شہرت ملی اور وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہوگئیں اور انہوں نے دنیا بھر کے طلبہ کو ماحولیاتی تبدیلی کے مظاہرے کرنے کی اپیل کی جس کے بعد دسمبر 2018 میں دنیا بھر کے 200 سے زائد شہروں میں طلبہ نے مظاہرے کیے۔
گریتا تھنبرگ نے ماحولیاتی تبدیلی کی مہم کی وجہ سے جلد ہی عالمی توجہ حاصل کرلی اور انہیں ورلڈ اکنامک فورم اور ٹیڈ سمیت کئی اہم عالمی فورمز میں مدعو کیا گیا۔
رواں ماہ مارچ میں سویڈین اور ناروے سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں بھی اسکول کے طلبہ نے ماحولیاتی تبدیلی کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے کیے، جس نے عالمی رہنماؤں کو ماحولیات سے متعلق نئی پالیسی بنانے کے لیے منصوبہ بندی پر مجبور کیا۔
گریتا تھنبرگ ٹائم میگزین 2018 کی ’ٹینز‘ کم عمر بااثر افراد کی فہرست میں بھی شامل رہیں۔
نوبل انعام کا اعلان ہر سال کے آخری مہینوں میں کیا جاتا ہے، تاہم انعام جیتنے والوں کو 10 دسمبر کو انعامات دیے جاتے ہیں۔ نوبل انعام کے لیے کسی بھی شخص کو دنیا کی کسی بھی اسمبلی کے ارکان نامزد کرسکتے ہیں۔
نوبل انعام کے لیے حکومتی وزراء بھی کسی بھی شخص اور ادارے کو نامزد کرسکتے ہیں۔ نوبل انعام کے لیے کسی بھی فرد یا ادارے کو عالمی ثالثی عدالت، عالمی عدالت انصاف، ڈروئٹ انٹرنیشنل، ویمنز انٹرنیشنل لیگ پیس اینڈ فریڈم، اعلیٰ یونیورسٹیز کے پروفیسرز، فلاسافرز، ریسرچ انسٹی ٹیوٹس کے سربراہان اور خود نوبل پرائز فاؤنڈیشن کے ارکان نامزد کرسکتے ہیں۔
نوبل انعام کے لیے دنیا کا کوئی بھی پروفیسر، رکن اسمبلی، جج، فلاسافر یا کسی ریسرچ انسٹی ٹیوشن کا سربراہ خود کو نامزد نہیں کر سکتا۔