گرمی میں سلاد کا استعمال، رکھے سرطان سے محفوظ

سلاد میں جسمانی کمزوریوں کو دور کرنے کی خاصیت دیکھنا ہوتو روزانہ پابندی سے استعمال کرنے والوں کے چہرے اور عمومی صحت مندی کو دیکھیے ان کی جلد سرخی مائل اور کھلی کھلی نظر آئے گی۔
یہ لوگ جسمانی مشقت والے روز گاروں سے وابستہ ہوں تو تب بھی ذہنی وجسمانی تھکان کا اظہار نہیں کرتے۔فن تعمیرات سے متعلق افراد کو دیکھیے جو شوربے والے سالنوں کے علاوہ نان اور کچی پیاز یا ٹماٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ایسے لوگ موسم کی کوئی شدت ہو تعمیراتی سرگرمیوں میں محونظر آتے ہیں۔
سلاد کی تیاری میں بعض اشیاء شامل کرکے اسے بہت زیادہ موثر اور کار گر خوراک بنایا جا سکتا ہے ۔
اس مقصد کے لیے چند اجزاء ضروری ہیں مثلاً زیتون کا تیل سرکہ اور لہسن کا کردار۔
سلاد میں شامل سبزیوں ،ساگ وغیرہ میں دو چائے کے چمچ زیتون کا تیل،گنے ،سیب یا انگور کے سرکہ کے چند قطرے شامل کرلینے سے اس کی مانع تکسیدی(Anti Oxidant)صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
لہسن کو شامل کرنے سے امراض قلب کے مریضوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اگر لہسن کی بو ناگوار محسوس ہوتی ہوتو اسے تھوڑا سا بھون کر شامل کرلیں ۔
ہرے دھنے اور پودینے یا سلاد کے پتوں کی مقدار بڑھا دینے سے یہ زودہضم بھی ہو جائے گی۔
عام طور پر خواتین کھیرے، ٹماٹر، پیاز، گاجر، مولی، سلاد کے پتوں اور پالک یا مولی ہی کو سلاد تصور کر لیتی ہیں، گوکہ یہ بھی اہم اجزاء ہیں لیکن بندگوبھی کے اجزاء میں سرطان کے خلاف مدافعت کرنے کی صلاحیت کے علاوہ قوتِ باہ میں اضافہ کرنے کی صلاحیت بھی موجودہے۔
سلاد تازہ ہو اور صاف پانی سے دھو کر بجائے پلاسٹک کی تھیلی کے سفید ململ کے کپڑے میں لپیٹ کررکھی جائے تو زیادہ دیر تک ہری بھری نظر آتی ہے ۔اس طرح کئی وٹامنز بھی ضائع نہیں ہوتے۔