پولیس افسران کے غیر اخلاقی رویہ سے تنگ ،انسپکٹر جان کی بازی ہار گیا دو ماہ میں 12سال سروس ضبط ،گھٹیا الزامات سے دلبرداشتہ،، ہسپتال داخل جنازہ میں کیا نعرہ لگ گیا

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)لاہور پولیس کا انسپکٹر ایس ایچ او مانگا منڈی عرفان خان افسران کی جانب سے بے جا سزائیں،الزامات اور گالیوں سے تنگ آکر زندگی کی بازی ہار گیا ۔متوفی عرفان خان کو سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ میں ڈی آئی جی آپریشن وقاص نذیر ،ایس ایس پی آپریشن کیپٹن (ر) مستنصر فیروز اور پولیس افسران و اہلکاروں نے شرکت کی ۔بتایا گیا ہے متوفی عرفان خان ایماندار اور شریف النفس انسپکٹر تھا ۔اسکے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہارٹ کا مریض انسپکٹر عرفان خان کو متعلقہ پولیس افسر معمولی بات پر اسے گالیاں دیتے بلکہ اس پر مختلف الزامات بھی لگا دیتے جس کی وجہ سے اس نے ایس پی اور دیگر افسران سے اپنے تبادلے کی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مانگا منڈی میں ایک تقریب میں خواجہ سراؤں کی پارٹی پر متعلقہ اعلی پولیس افسر نے اسے گالیاں دیں کہ تم ’’کھسروں ‘‘کی کمائی کھاتے ہو جس کے بعد انسپکٹر عرفان خان نے جب بھی افسر سے بات کی تو اسے کہا جاتا کہ’کھسروں ‘‘کی کمائی کھانے والے کام کیوں نہیں کرتے ۔پویس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک کرائم میٹنگ میں بھی افسر نے کہا کہ یہاں ایسے ایس ایچ او بھی ہیں جو ’کھسروں ‘‘کی کمائی کھاتا ہے ۔جس پر سب ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے ۔بعدازاں انہیں بتایا کہ ایس ایچ او مانگا منڈی پر یہ الزام لگایا گیاہے جس پر سب حیران رہ گئے کہ ایماندار پولیس انسپکٹر پر ایسے گھٹیا الزام لگانا انتہائی غلط ہے ،اس میٹنگ میں الزامات لگنے کے بعد انسپکٹر عرفان کو’’ چپ‘‘ لگ گئی ۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ایس پی صدر آپریشن نے دو ماہ کے دوران انسپکٹر رضوان خان کی 12سال سروس ضبط کر لی جس کے رضوان خان ذہنی مریض بن کر رہ گیا ہے۔ڈویژنل پولیس کے ماتحت افسروں کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او مانگا منڈی نے امراض قلب کے باعث سرکل آفیسر سے چھٹی مانگی تو اسے کہا گیا کہ تم ڈرامہ کر رہے ہوچند روز قبل وہ خود بیماری کی رپٹ لکھ کر چلا گیا تو اسے فون پر کہا گیا کہ فوری واپس آؤ تم کام نہ کرنے کے لئے ڈرامہ کر رہے ہیں لیکن اس نے اپنے اعلی افسران کو بتایا کہ وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاریالوجی میں داخل ہے۔ متوفی کے بھائی ڈاکٹر عدنان خان کا کہناتھا کہ پولیس افسرون کے رویہ اور سزاؤں سے انکا بھائی ذہنی اذیت کا شکار ہوکر ہسپتال میں داخل ہوا اور جابحق ہو گیا ۔صدر ڈویژ ن پولیس ذرائع کے مطابق ایک ڈی ایس پی گزشتہ صبح اسکو ہسپتال چیک کرنے گیا تو اسے ہسپتال جا کر علم ہوا کہ انسپکٹر عرفان خان وفات پا گیا ہے تب اس نے افسران کو اطلاع کی ۔بتایا گیا ہے کہ عرفان خان کے جنازے کو اسی ڈی ایس پی کندھا دے رکھا تھاجس پر ایک اہلکار نے آواز لگائی کہ خود ہی مار کر اب کندھا ۔لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ انسپکٹر عرفان خان عارضہ قلب میں مبتلا تھا اور چند دنوں سے پی آئی سی ہسپتال میں زیر علاج تھا جو گزشتہ روز قضائے الہی سے انتقال کر گیا ۔ لاہور پولیس کے افسران پر تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔