وکی لیکس کے بانی جولین اسانج لندن میں گرفتار

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو 7 سال کی سیاسی پناہ کے بعد لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کرلیا گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ایکواڈور کے صدر لینن مورینو کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد جولین اسانج کی سیاسی پناہ واپس لے لی گئی ہے۔
میٹرو پولیٹن پولیس سروس (ایم پی ایس) کے مطابق وکی لیکس کے بانی کو سینٹرل لندن پولیس اسٹیشن میں اس وقت تک رکھا جائے گا جب تک انہیں جلد از جلد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا‘۔
 
میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ جولین اسانج عدالت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے میں ناکام ہوگئے یہی وجہ ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وکی لیکس نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ایکواڈور نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جولین اسانج کی سیاسی پناہ ختم کی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔
 
برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے بھی اپنی ٹوئٹ میں جولین اسانج کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پولیس حراست میں ہیں اور برطانیہ میں قانون کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے تعاون پر ایکواڈور کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالا نہیں ہے۔
یاد رہے کہ آسٹریلوی کمپیوٹر پروگرامر جولین اسانچ نے 2006 میں وکی لیکس کی بنیاد رکھی اور 2010 میں انہوں نے اس وقت عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جب وکی لیکس نے سابق امریکی فوجی چیلسا میننگ کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ دستاویزات شائع کیں۔
وکی لیکس نے تقریبا 7 لاکھ 50 ہزار کے قریب خفیہ معلومات افشا کیں جن میں عراق، افغان جنگ اور دیگر عالمی امور نمایاں ہیں۔
خفیہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد امریکا نے جولین اسانچ کے خلاف مجرمانہ فعل کی تحقیقات شروع کی اور ان پر سوئیڈن میں جنسی زیادتی کا کیس بھی سامنے آیا جس کے بعد انہوں نے سوئیڈن سے لندن میں موجود ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لی۔
ایکواڈور کے سفارتخانے نے جولین اسانچ کی پناہ ختم کرنے کا اعلان کیا تو میٹرو پولیٹن پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔