سوڈان میں فوجی بغاوت کے بعد صدر عمر البشیر کو گرفتار کر لیا

سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے زیر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرنے کے بعد گرفتار کرلیا۔
خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے ملک میں 2 سال کے لیے فوجی حکمرانی کا اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سول جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو مشتعل ہونے سے روکنے کے لیے ایمرجنسی بھی نافذ کردی ہے۔
 سرکاری نشریاتی ادارے نے اعلان کیا تھا کہ فوج آج ’ ایک اہم بیان ‘ دے گی اور قوم کو اس کا انتظار کرنا چاہیے۔
فوج اور حکومت کے 2 اعلیٰ عہدیداران نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ عمر البشیر کو برطرف کردیا گیا۔
جس کے بعد ہزاروں مظاہروں نے دارالحکومت خرطوم کے وسط کی طرف مارچ کیا اور صدر کی برطرفی کی خوشیاں منائیں۔
بعد ازاں آج دوپہر میں وزیر دفاع عود محند ابن عوف نے سرکاری نشریاتی ادارے پر اعلان کیا کہ فوج نے عمر البشیر کو گرفتار کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ میں، وزیر دفاع، سپریم سیکیورٹی کمیٹی کا سربراہ عمر البشیر کو گرفتار کرکے محفوظ مقام پر مننتقل کرنے کے بعد ان کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں۔
انہوں نے عمر البشیر کی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری اور سیکیورٹی ایجنسیاں طویل عرصے سے حکومت کو ایک ’بری انتظامیہ،منظم بدعنوانی، انصاف کی عدم موجودگی اور عوام خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک بند راستے کے طور پردیکھتے رہے تھے‘۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ’ غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوگیا، مساوات کی امید دم توڑ چکی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ عمر البشیرکی جانب سے مظاہرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کی وجہ سے سیکیورٹی اسٹبلیشمنٹ کی سلاممتی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے تھے۔
عود محمد ابن اوف نے کہا کہ فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بنائی جانے والی ملٹری کونسل آئندہ 2 سال تک حکومت کرے گی جس کے بعد ’ شفاف اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں گے‘۔
انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ فوج نے آئین معطل کردیا، حکومت تحلیل کردی اور 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی بھی نافد کی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ فوج نے سرحدیں اور فضائی حدود بند کردی ہیں اور ایک ماہ کے لیے رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کیا ہے۔
دوسری جانب مظاہروں کے منتظمین کو خدشہ ہے کہ عمر البشیر کی برطرفی کے فوج اپنی حکومت نافذ کردے گی۔
اس سے قبل سوڈانیز پروفیشنل ایسوی ایشن نے مظاہرین سے اصرار کیا تھا کہ وہ سول حکومت کے لیےاحتجاج کریں۔
سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر ، معمر قذافی کے ہمراہ—فوٹو: اے پیتنظیم نے کہا کہ ’ ہم نہیں چھوڑ رہے ، ہم انقلابیوں سے اصرار کرتے ہیں کہ وہ دھرنا ختم نہیں کریں‘۔
انہوں نے ’ ماضی کی حکومت‘ کو دوبارہ لانے کی کوشش سے متعلق خبردار بھی کیا۔
سوڈانیز پروفیشنل ایسوی ایشن کی ترجمان نے اے پی کو بتایا تھا کہ وہ فوجی بغاوت کو قبول نہیں کریں گے اور عمر البشیر اور ان کی حکومت کے غیر مشروط خاتمے پر اصرار کریں گے۔
افریقی یونین نے سوڈان کے صدر عمر البشیر کو برطرف کرنے پر فوج پر تنقید کی اور پرسکون رہنے کا مطالبہ کیا۔
افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین موسی فاکی نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ ’ فوجی کنٹرول ، سوڈان کو درپیش چیلنجز اور عوام کی خواہش کا مناسب رد عمل نہیں ہے‘۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ امید ہے کہ سوڈان جمہوری طریقہ کار کی جانب واپس لوٹ آئے گا۔
انقرہ میں برکینا فاسو کے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ میں امید کرتا ہوں کہ سوڈان اس صورتحال پر آسانی سے قابو پالے اور میرا ماننا ہے کہ سوڈان کو جمہوری عمل کی جانب بڑھنا چاہیے ‘۔
انہوں نے کہا اس عمر البشیر سے متعلق کوئی مصدقہ اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال غیرواضح ہے۔
مصر نے فوجی بغاوت کے نتیجے میں سوڈان کے صدر کی برطرفی کے بعد سوڈان کے عوام اور فوج کی ’مکمل حمایت ‘ کا اعلان کردیا۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ’ مصر اس نازک مرحلے میں استحکام، خوشحالی اور ترقی کے حصول کے لیے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے سوڈانی عوام اور ان کی وفادار فوج پر مکمل یقین رکھتا ہے ‘۔
برطانوی سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ سوڈان میں 2 سال تک فوجی حکومت میں ملک میں ’ حقیق تبدیلی ‘ کے مطالبے کا جواب نہیں ہے۔
انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’سوڈان کو فوری طور پر ایک جامع ،شہر ی قیادت اور تشدد کی خاتمے کی ضرورت ہے‘۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتیرس نے عمر البشیر میں برطرفی کے بعد سوڈان کے عوام کی خواہش کے مطابق جمہوریت قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس کے ساتھ ہی انہوں نے سب کو پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔
انتونیو گیوتیرس کے ترجمان نے کہا کہ ’ سوڈانی عوام کی جمہوریت کے قیام کی خواہش کو مناسب اور جامع طریقے سے پورا کیا جائے‘۔
انہوں نے کہا کہ انتونیو گیوتیرس نے بارہا عالمی ادارہ انصاف(آئی سی سی) کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کیا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ عمر البشیر کے آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری سمیت ان کے مقدمات پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں
دوسری جانب سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے 5 ممالک نے فوجی بغاوت کے نتیجے میں صدر عمر البشیر کی برطرفی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
12 اپریل کو سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں سوڈان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ فرانس،برطانیہ، جرمنی، بیلجیم اور پولینڈ نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانےکا مطالبہ کیا۔
خبررساں ادارے ’اے ایف پی ‘ کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نے کہا کہ سوڈان کے صدر عمر البشیر کو عالمی عدالت انصاف کے حوالے کیا جائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سوڈان کے فوجی حکام سے اصرار کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نئے ایمرجنسی قوانین شہری آزادی کو سلب تو نہیں کررہے۔
عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو نے ایک بیان میں کہا کہ ‘ عمر البشیر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مطلوب ہیں اور ہم آخر کار ان کا احتساب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ سوڈانی حکام اب عمر البشیر کو عالمی عدالت انصاف کے حوالے کردیں تاکہ ان سنگین جرائم کے متاثرین دیکھیں کہ انصاف ہوا ہے‘۔
سوڈان میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں عمر البشیر کے 3 دہائیوں سے جاری اقتدار کا خاتمہ ہوگیا جنہوں 1989 میں فوجی حمایت سے بغاوت کے نتیجے میں ہی حکومت قائم کی تھی۔
ماضی میں امریکا نے عمر البشیر کی حکومت کو بارہا پابندیوں کا نشانہ بنایا اور داعش کی حمایت کے الزام میں فضائی حملے بھی کیے۔
گزشتہ برس دسمبر میں شروع ہونے والے مظاہرے عمر البشیر کے حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھے، ابتدائی طور پر مظاہرین بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کی وجہ سے مشتعل تھے لیکن بعد انہوں نے صدر کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔
بعدازاں الجزائر میں ملک کے طویل المدتی وزیراعظم کے مستعفیٰ ہونے کے بعد سوڈان میں مظاہروں میں ایک نئی شدت اختیار کرلی تھی۔
عمر البشیر عالمی عدالت انصاف کو سوڈان کے مغربی علاقے دارفور میں 2003 میں شروع ہونے والی بغاوت میں ظالمانہ کریک ڈاؤن کے باعث جنگی جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں۔
یاد رہے کہ صادق المہدی 1966 سے 1967 تک سوڈان کے وزیراعظم رہے تھے جس کے بعد 1986 میں ایک مرتبہ پھر وزیراعظم منتخب ہوئے اور 1989 کو ان کی حکومت کو لپیٹ لیا گیا جس کے بعد ملک میں انتخابی عمل رک گیا۔