افغان طالبان کی ریڈ کراس اور ڈبلیو ایچ او پر ‘پابندی’ کا اعلان، سرگرمیاں معطل

ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کا کہنا ہے کہ طالبان کا ان پر اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پر ‘پابندی’ کے اعلان کے بعد انہوں نے افغانستان میں اپنی تمام سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔
طالبان کے بیان کے مطابق آئی سی آر سی نے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی ہے۔
تقریباً آدھے افغانستان کا کنٹرول رکھنے والے طالبان نے ڈبلیو ایچ او پر بھی ویکسینیشن مہم کے دوران ’مشتبہ نقل و حرکت‘ کا الزام لگایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ان وجوہات پر طالبان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دونوں اداروں پر ملک بھر میں پابندی عائد رہے گی‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ پابندی کے دوران طالبان ان اداروں کے صحت رضاکاروں کی سیکیورٹی کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
آئی سی آر سی کے ترجمان روبن ووڈو کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے افغانستان میں اپنی تمام سرگرمیاں روک دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس اعلان پر عمل کرتے ہوئے سیکیورٹی کی گارنٹی ختم ہونے پر ملک سے اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں بھی طالبان نے آئی سی آر سی سے ’سیکیورٹی معاہدہ‘ ختم کردیا تھا جس کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں معطل ہوگئی تھیں۔
بعد ازاں مذاکرات کے بعد آئی سی آر سی نے اکتوبر کے مہینے میں اپنی سرگرمیاں واپس بحال کردی تھیں۔