شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیاں نیب میں طلب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کی اہلیہ اور 2 بیٹیوں کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں طلب کرتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی کردی۔
نیب نے سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی بیگم اور بیٹیوں کو منی لانڈرنگ کیس میں طلب کرلیا ہے۔ حمزہ شہباز کو 16 اپریل، نصرت شہباز کو 17 اپریل، رابعہ عمران کو 18 اور جویریہ علی کو 19 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔ نیب ٹیم ان تمام افراد کے گھر پہنچی اور انہیں نوٹسز وصول کرائے۔
لیکن یہ معاملہ اس وقت گمبھیر ہوگیا جب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے الزام عائد کیا کہ نیب اور پولیس کی ٹیموں نے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی بیٹیوں کے گھر کا گھیراؤ کرکے بغیر اطلاع کے چھاپہ مارا ہے، اور یہ اقدام قابل مذمت اور تشویش کا باعث ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل کہا تھا کہ شریف خاندان کے خلاف نئے کیسز بنائے جائیں گے، اب عوام کو سمجھ جانا چاہئے کہ عمران خان کا ویژن کیا ہے کہ شریف خاندان کو جھوٹے کیسز میں پھنسایا جائے گا۔
ن لیگ کا بیان سامنے آنے کے بعد نیب کا وضاحتی بیان جاری ہوا جس میں چھاپہ مارنے کی تردید کی گئی۔ نیب لاہور کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شریف فیملی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس پر تحقیقات جاری ہیں، نیب ٹیم شہباز شریف کی صاحبزادیوں کے گھر طلبی کے نوٹس پہنچانے گئی تھی اور چھاپہ نہیں مارا۔
نیب نے کہا کہ پولیس کی صرف ایک گاڑی سیکیورٹی کے لئے ہمراہ تھی، شہباز شریف کی صاحبزادی کے گھر کا گھیراؤ کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، مخصوص عناصر نیب کو بدنام کرنے کیلئے من گھڑت پراپیگینڈا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایس پی ماڈل ٹاؤن لاہور علی وسیم نے بھی کہا کہ پولیس کی جانب سے نہ چھاپہ مارا گیا ہے نہ نفری بھیجی گئی ہے، نیب کی ٹیم صرف نوٹس دینے گئی تھی جو وصول کراکر واپس آگئی ہے۔
مریم اورنگزیب سے جب اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پولیس اور نیب نے گھر کا گھیراؤ کرکے نوٹس دیا، بغیرکسی اطلاع کے گھیراؤ کرنا کس قسم کا احتساب ہے۔
علاوہ ازیں نیب لاہور نے نصرت شہباز، جویریہ اور رابعہ شہباز کو بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لئے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا ہے۔ نیب نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے امیگریشن کو خط لکھ کر نصرت شہباز، رابعہ عمران، جویریہ علی اور عائشہ ہارون کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان خواتین کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے جاتے اس وقت تک پی این ایل لسٹ میں ڈال دیے جائیں۔