آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی سے بھی فنڈنگ ملیں گے: اسد عمر

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے جاری معاشی اصلاحات کو سراہا۔ آئندہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی مدد کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے دوران اجلاس گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے، واشنگٹن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی حکام سے ملاقات ہوئی۔ آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے 15 ارب ڈالر قرضہ ملنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیم ٹرم اکنامک فریم ورک تیار کیا ہے، میڈیم ٹرم اکنامک فریم وزیر اعظم اور ایڈوائزری کے ساتھ شیئر کیا۔ آئی ایم ایف مشن اپریل کے آخری ہفتے میں پاکستان پہنچے گا، مشن کے پہنچنے پر مالیاتی قرض کا معاہدہ فائنل ہو جائے گا۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کمیٹی اجلاس میں بھی شیئر کیا جائے گا۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے جاری معاشی اصلاحات کو سراہا۔ آئندہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی مدد کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں وہ بھی مستحکم ہو جائیں گے۔ جیسے ہی آئی ایم ایف کا پروگرام ہوا، ورلڈ بینک اور اے ڈی بی سے فنڈنگ ملے گی۔ ایمرجنگ مارکیٹس کی حالت تیزی سے بدل رہی ہے۔ معاشی اصلاحات پر کام ہو رہا ہے۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کیپیٹل مارکیٹ کی حالت بہتر ہوگی، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ تھا، اب اضافہ ہوگا۔ معاشی استحکام نظر آئے گا، خبروں میں عدم استحکام نظر آرہا ہے۔
خیال رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکسوں میں نمایاں اضافے اور آئندہ مالی سال کے لیے محصولات کے حجم میں نمایاں اضافے کی مانگ کی ہے۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی کا حجم 5 ہزار 400 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 43 سو 98 ارب روپے رکھا گیا تھا تاہم ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس ہدف کا حصول بھی مشکل ہے۔