بیورو کریسی مکمل ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ فرئض انجام دے: چیئرمین نیب

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بیورو کریسی بلا خوف و خطر قانون کے تحت فرائض انجام دے، آئندہ کسی گرفتار افسر کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی۔
سول سیکرٹریٹ میں پنجاب کے اعلیٰ افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ بیورو کریسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اگر وہ فیصلے نہیں کرے گی تو ہم آگے کیسے بڑھیں گے، حکومت پالیسی بناتی ہے اور عملدرآمد بیورو کریسی کا کام ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ گزشتہ برس پنجاب میں میگا کرپشن کیسز سامنے آئے اور ہم نے جن بیورو کریٹس کے خلاف کارروائی کی، ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور شواہد سے ثابت کروں گا جو نیب کام کر رہا ہے وہ درست ہے۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا سب کی اولین ترجیح ہے اور نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی پالیسی پر قانون کے مطابق بلا تفریق عمل پیرا ہے، بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے اور نیب افسران قومی فریضہ سمجھ کر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جائز معاملات میں افسران کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، کوئی بھی افسر کسی وقت بھی مجھ سے مل سکتا ہے، افسران کرپشن کے خاتمے کیلیے کلیدی کردار ادا کریں۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ بیورو کریسی مکمل ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ فرئض انجام دے اور دیکھے کہ کام کرنے کے لیے ماحول سازگار ہے یا نہیں، بیوروکریسی دیکھے تقرری کی مدت اور تقرر و تبادلے میرٹ پر اور درست ہو رہے ہیں یا نہیں۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کو چیئرمین نیب کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکےگا، نیب کا ریجنل آفیسر کسی افسران کو از خود گرفتار نہیں کرسکے گا اور آئندہ کسی گرفتار افسر کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے افسران کو کہا کہ بیورو کریسی کا کام ملکی و عوامی مفاد میں پالیسی بنانا ہے، نیب آپ سب کا ادارہ ہے، ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے ملکی معیشت کو نقصان ہو۔