نئے آئی جی پنجاب کا پہلا کھڑاک،، محکمہ میں خود کو لازمی جز سمجھ کر کلنک کا ٹیکہ بننے والوں کو ادارے سے پاک کیا جائے ادارہ کو مضبوط کرنا اور انصاف کی فراہمی کے بعدعوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کا عزم

لاہور(رپورٹ : ملک ظہیر)پنجاب پولیس کو بطور ادارہ مضبوط کیا جائے گا اوربہترین کارکردگی کے ذریعے نہ صرف عوامی تاثر کو بدلیں گے بلکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نچلی سطح تک ایسی پالیسیز بنائی جائیں گی جن کے ذریعے عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو گا ادارے کے اندر موجود ایسے تمام عناصر کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو اپنے آپ کو محکمہ کے لیے ایک لازمی جزو سمجھ کر محکمہ کے نام پر کلنک کا ٹیکہ بن چکے ہیں اور جو ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں،ادارے کو ان سے پاک کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے آج اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد سنٹرل پولیس آفس لاہور میں تمام افسروں سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، کیپٹن (ر) احمد لطیف، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب، طارق مسعود یٰسین، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، انعام غنی، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، سردار علی خان، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، منظور سرور چوہدری، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب، ابوبکر خدا بخش اور ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ، غلام رسول زاہد کے علاوہ دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے کہ سنٹرل پولیس آفس میں بنائی گئی پالیسیز کے حوالے سے جاری کیے گئے ایس او پیز اور سٹینڈنگ آرڈرزپر تمام فیلڈ افسران عملدرآمد کے پابند ہوں گے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اورہر سطح پر مشاورت کے ساتھ واضح حکمت عملی بنائی جائے گی جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ کو ایک مثالی ادارہ بنانے کے لیے تمام افسروں اور اہلکاروں کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔ پولیس ریفارمز ہم خود کریں گے اور انشاء اللہ عوام کو ایک ریفارمڈ پولیس نظر آئے گی۔ انہوں نے افسروں سے کہا کہ ہمیں مل کر اپنی فورس کو مضبوط کرنا ہو گا اوران کی ویلفیئر کا دھیان رکھنا ہو گا تا کہ وہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ تمام مالی امور کی فیلڈ افسران اور تمام سربراہان براہِ راست خود نگرانی کریں تا کہ معاملات کو شفاف طریقے سے چلایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سوموار کو افسروں کی میٹنگ ہو گی اور تمام پالیسیز ایگزیکٹیو بورڈکے ذریعے بنائی جائیں گی انہوں نے تمام افسران کو کہا کہ پالیسی سازی کے دوران انہیں رائے دینے کا پورا موقع دیا جائے گا لیکن فیصلے کے بعد اس پر 100فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانا افسران کی ذمہ داری ہو گی اور اس کی پوری طرح ذمہ داری لینا پڑے گی۔ آئی جی پنجاب نے ویلفیئر کے حوالے سے کہا کہ ہمیں شہیدوں اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین اور دیگر ویلفیئر کے معاملات میں اپنے سسٹم کو مزید بہتر کرنا ہو گا تا کہ فورس اس مقصد کے لیے میڈیا ، عدالتوں یا سیاسی رہنماؤں کا سہارا لیے بغیر اپنے محکمے سے ریلیف حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی فورس کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے تووہ بھی عوام کو انصاف کی فراہمی کے قابل نہیں ہو سکتے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سسٹم کو مزید بہتر کرنا ہو گا اور اس کے لیے دی جانے والی سزاؤں کو مثالی بنایا جائیگا