وزیراعظم کیجانب سے پنشنرز کیلئے خوشخبری، بجٹ میں ہوگا اہم اعلان

مالی سال 2019-20 کے سالانہ وفاقی بجٹ میں تمام تر مالی دشواریوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے سول و فوجی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سول و فوجی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے سے متعلق ہدایات اپنی مالیاتی ٹیم جس کے سربراہ وفاقی مشیر خزانہ ریونیو اقتصادی امور ڈاکٹر حفیظ اے شیخ ہیں کو دے دی ہیں چونکہ پی ٹی آئی دور حکومت کے کم وبیش دس گیارہ ماہ میں افراط زر کی شرح کم وبیش دس فیصد بڑھی ہے افراط زر کی اس شرح کے گرانی کے اثرات ہر قسم کی اشیاء پر پڑے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی مشیر خزانہ ریونیو اقتصادی امور ڈاکٹر حفیظ شیخ 11 جون کو وفاقی کابینہ کے خصوصی بجٹ اجلاس میں یہ تجویز وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ کو سیاق وسباق اور اعدادوشمار کے ساتھ پیش کریں گے کہ بنیادی سکیل نمبر16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں کم وبیش 12 فیصد اضافہ کر دیا جائے اور بنیادی سکیل نمبر17 تا بنیادی سکیل نمبر22 کے افسروں کی تنخواہوں پنشنوں میں 10 فیصد کے لگ بھگ اضافہ کر دیا جائے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے کی حتمی شرحوں کا فیصلہ ہوگا کابینہ کو 11 جون کی دوپہر جو سمری وفاقی مشیر خزانہ ریونیو و اقتصادی امور ڈاکٹر حفیظ اے شیخ پیش کرنے والے ہیں اس کے بارے میں وہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتائیں گے کہ سرکاری ملازمین سے مراد سول وعسکری ملازمین دونوں ہوں گے۔
10 فیصد اضافہ تنخواہ پنشن میں وفاقی کابینہ سے منظور کیا گیا تو اس سے قومی وسائل پر 40 ارب روپے کا امکانی بوجھ پڑے گا۔
سول وفوجی ملازمین کی تنخواہوں پنشنوں میں بارہ فیصد اضافہ کابینہ منظور کرے گی تو قومی خزانے سے 52 ارب روپے اس زمرے میں دینا ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق سول و فوجی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے کے علاوہ بعض کیٹیگری کے سرکاری ملازمین کے الائونسوں مراعات سہولیات میں بھی ردوبدل کئے جانے کا امکان ہے۔