بچوں میں برین کینسر کا تعلق بنا موبائل فون سے

موبائل فون بچوں میں برین ٹیومر کا سبب بن سکتا ہے، بڑوں کے مقابلے میں بچوں کے دماغ مائیکرو ویو ریڈی ایشنز زیادہ جذب کرتے ہیں جس سے بچوں کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال لاہور سے منسلک معروف معالج ڈاکٹر عائشہ عارف کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال بچوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے جو کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑوں کے مقابلے میں بچوں کے دماغ مائیکرو ویو ریڈی ایشنز زیادہ جذب کرتے ہیں، موبائل فون کے زیادہ استعمال سے بچوں میں نیند کی کمی، برین ٹیومر اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے ہمارے جسم پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر بچوں کی نشونما کے دوران اس کا استعمال مستقبل میں برین کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ نے موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے متعلق بتایا کہ اگرچہ وائر لیس فون اب ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بن گئے ہیں مگر اس کا کم سے کم استعمال ہمارے لیے بہتر ہے۔ ’موبائل فون کا کان سے دور رکھ کر استعمال صحت کے لیے بہتر ہے جو خطرات کو 1 ہزار فیصد کم کر دیتا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو موبائل فون کو پاﺅچ، پرس، بیگ یا بیگ پیک میں رکھنا چاہیئے، ایسی ڈیوائسز کو حاملہ خواتین سے بھی دور رکھنا چاہیئے۔ اسی طرح نرسنگ کے شعبہ میں یا بچوں کو دودھ پلانے کے دوران بھی خواتین کو موبائل فون کے استعمال سے گریز کرنا چاہیئے۔
ڈاکٹر عائشہ کے مطابق نوجوانوں کو موبائل فون کا محدود استعمال کرنا چاہیئے اور بچوں کو ان کے بیڈ رومز میں موبائل کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔