فضائی آلودگی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ

اسلام آباد میں فضائی آلودگی سے نبٹنے کے لیے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔۔ جس میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی جلد پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ گاڑیوں سے دھوئے کا اخراج فضائی آلودگی کا ایک بڑاسبب ہے ۔ حکومت فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے الیکٹرک گاڑیوں پر پالیسی سازی کے مراحل سے گزر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے اس منصوبے کے ابتدائی مسودے کی منظوری دے دی ہے اور کلیدی شراکت داروں کے ساتھ پالیسی مشاورت کا عمل جاری ہے جسے کابینہ میں آئندہ چند ہفتوں میں پیش کیا جائے گا ۔ملک امین اسلم نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی سمیت ہمارے دیگر کئی مسائل بھی حل ہونگے ، ایندھن کی درآمد کے بل میں کمی اور ٹرانسپورٹ کی دو تہائی لاگت کم ہو گی ۔ اس کے علاوہ اس بجٹ میں آٹھ ارب روپے دس بلین درخت لگانے کے پروگرام کے لئے مختص کیے گئے ہیں ۔ ملک امین نے کہا کہ فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں اب پاکستان کے معیشت اور سوساءٹی کو کافی نقسان پہنچا رہی ہیں ۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر عابد قیوم نے کہا کہ غیر متوقع ماحولیاتی تبدیلیاں اور فضائی آلودگی ہماری معیشت کی ترقی اور معاشرے کی فلاح و بہبود کی راہ میں روکاوٹ ہیں ۔ پاکستان میں چینی ڈپٹی چیف مشن لیجیان زاؤ نے کہا کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے ہر فرد کا کردار اہم ہے; ۔ انہوں نے کہا کہ چین الیکٹرک گاڑیوں کے کلچر کو فروغ دینے اور ایڈوانس کلین ٹیکنالوجی کے استعمال سے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں کافی ضد تک کامیاب ہوا ہے پاکستان فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے چین سے بہت سیکھ سکتا ہے۔